تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 173 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 173

تاریخ احمدیت۔جلد 23 173 سال 1965ء سماجیوں کی شدھی سنگھٹن تحریک کا مقابلہ کیا اور ۱۹۳۱ء میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی قیادت کی اور ۱۹۴۸ء کی تحریک آزادی کشمیر میں حصہ لینے کے لئے احمد یہ رضا کاروں کی ایک بٹالین کی خدمات حکومت کو پیش کیں۔مرحوم مرزا بشیر الدین محمود کے فرزند اکبر مرز نصیر الدین ( ناصر ) احمد کو کل رات احمدیوں کا نیا خلیفہ منتخب کیا گیا۔مرزا نصیر (ناصر) احمد جو مرزا غلام احمد کے پوتے ہیں ۱۵ نومبر ۱۹۰۹ء کو پیدا ہوئے۔انہوں نے آکسفورڈ سے ایم اے کیا۔مرزا بشیر الدین محمود مرحوم کی نماز جنازہ ربوہ میں آج صبح ہوئی۔صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے مرزا بشیر الدین محموداحمد کے صاحبزادے کو مندرجہ ذیل تعزیتی پیغام ارسال کیا ہے۔مرزا بشیر الدین محمود احمد کی وفات کی خبر سن کر مجھے دلی صدمہ پہنچا۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی روح کو سکون اور آپ کو آپ کے متعلقین کو اور ان کے پیروؤں کو اس عظیم نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت اور قوت عطا فرمائے۔“ روزنامہ مشرق لاهوره انومبر ۱۹۶۵ء : مرزا بشیر الدین محمود کور بوہ میں سپردخاک کر دیا گیا جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود کو کل بعد نماز عصر ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں ان کی والدہ کے پہلو میں امانتا سپر د خاک کر دیا گیا۔نماز جنازہ میں پچاس ہزار افراد نے شرکت کی۔یہ لوگ اپنے روحانی پیشوا کی آخری زیارت کے لئے پاکستان کے ہر خطے سے آئے ہوئے تھے۔بہت سے حضرات غیر ممالک سے یہاں پہنچے تھے۔مرزا صاحب نے یہ وصیت کی تھی کہ جب بھی موقع ملے ان کے خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ قادیان (مشرقی پنجاب) میں دفن کیا جائے چنانچہ انہیں ربوہ میں امامتنا دفن کیا گیا ہے۔مرزا بشیر الدین محمود کی تجہیز و تکفین کی رسومات میں شرکت کے لئے سوگوار احمدیوں کی آمد کا سلسلہ پیر کی صبح سے ہی شروع ہو گیا تھا۔اور جنازہ کے وقت تک آنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔تدفین کے لئے منگل کی صبح دس بجے کا وقت مقرر تھا لیکن مشرقی پاکستان اور غیر ممالک سے آنے والے احمدیوں کے انتظار میں تدفین میں تاخیر ہوتی رہی اور بالآخر عصر کے بعد تد فین ہوئی۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ۵۱ سال بعد یہ مرحلہ آیا کہ وہ اپنے رہنما سے محروم ہوگئی اور اسے نئے رہنما کے انتخاب کا مسئلہ در پیش آیا۔بانی جماعت مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد پہلے خلیفہ مولوی نورالدین منتخب ہوئے تھے۔وہ اپنی وفات تک چھ سال اسی منصب پر رہے۔ان کے بعد مرزا غلام احمد