تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 166 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 166

تاریخ احمدیت۔جلد 23 166 سال 1965ء sons and 9 daughters besides over 3 million followers and a network of missions all over the world according to a Press release of the Ahmadiyya Jamaat here۔114 وو ترجمہ: جماعت احمدیہ کے سربراہ وفات پاگئے ر بوه ۸ نومبر: احمدیہ فرقہ کے سر براہ مرزا بشیر الدین محمود احمد آج صبح یہاں لمبی بیماری کے بعد وفات پاگئے۔آپ کی عمرے ۷ سال تھی۔احمد یہ فرقہ کے ارکان پاکستان کے ہر گوشہ سے اور متعدد بیرونی ممالک سے اپنے جدا ہونے والے سر براہ کو آخری خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے بڑی تعداد میں یہاں آرہے ہیں۔آپ کا جسد خاکی کل نئے سربراہ کے انتخاب کے بعد دفنایا جائے گا۔اس غرض کے لئے انتخاب خلافت کمیٹی کا اجلاس یہاں منعقد ہو رہا ہے۔صدر ایوب کا پیغام صدر مملکت محمد ایوب خان صاحب نے ایک تعزیتی پیغام میں مرزا ناصر احمد صاحب کو لکھا ہے:۔مجھے مرزا بشیر الدین محمود احمد کی وفات حسرت آیات کا سن کر سخت صدمہ پہنچا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی روح کو امن عطا کرے اور خدا تعالیٰ آپ کو اور آپ کے افراد خاندان کو اور مرزا صاحب مرحوم کے متبعین کو اس نقصان کے برداشت کرنے کا حوصلہ عطا کرے“۔احمد یہ جماعت کے پریس ریلیز کے مطابق مرزا بشیر الدین محمود احمد مرحوم جماعت احمدیہ کے آزادی سے پہلے کے مرکز قادیان ( انڈیا ) میں جنوری ۱۸۸۹ ء میں پیدا ہوئے۔آپ نے اپنے بعد تیرہ بیٹوں ، نو بیٹیوں کے علاوہ تمہیں لاکھ سے زائد متبعین اور دنیا بھر میں احمد یہ مشنوں کا ایک جال چھوڑا ہے۔“ حميد اخبار امروز ۹ نومبر ۱۹۶۵ء: مرزا بشیر الدین محمود انتقال کر گئے لا ہور۔۸ نومبر۔جماعت احمدیہ کے سر براہ مرزا بشیر الدین محمود احمد آج صبح ربوہ میں انتقال کر گئے۔انہیں کل صبح دس بجے جماعت کے نئے سربراہ کے انتخاب کے بعد ر بوہ میں دفن کیا جائے گا۔انتقال کے وقت مرزا صاحب کی عمرےے برس تھی وہ ۱۹۱۴ء میں اپنی جماعت کے خلیفہ مقرر