تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 167 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 167

تاریخ احمدیت۔جلد 23 167 سال 1965ء ہوئے وہ دو مرتبہ یورپ بھی گئے۔انہوں نے افریقہ یورپ اور امریکہ میں جماعت کی طرف سے تبلیغی مشن قائم کرنے میں گہری دلچسپی لی۔انہوں نے دوسرے ملکوں میں ۹۶ مشن قائم کئے۔اس وقت تک جماعت کی طرف سے ۵۲ امشن قائم کئے جاچکے ہیں۔انہوں نے ۱۹۲۲ء میں شدھی تحریک کی مخالفت کی اور آریہ سماجیوں کے خلاف مناظرے کئے۔۱۹۳۱ء میں کل ہند کشمیر کمیٹی کی قیادت کی۔تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا اور ۱۹۴۸ء میں احمدی رضا کاروں کی ایک بٹالین تیار کر کے کشمیر میں لڑنے کے لئے بھیجی ان کے ماننے والوں کی تعداد میں لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے اور دنیا میں ۲۹۱ مساجد تعمیر کرنے کے علاوہ تبلیغی اداروں کا جال پھیلایا۔ان کی جماعت نے کلام پاک کا جرمن ولندیزی، انڈونیشین اور سواحیلی زبان کے علاوہ اور کئی زبانوں کے ترجمے شائع کئے۔ان کی جماعت کے ارکان ان کے جنازے میں شریک ہونے کے لئے پاکستان کے مختلف حصص اور بیرونی ملکوں سے ربوہ پہنچ رہے ہیں۔“ اخبار مشرق ۹ نومبر ۱۹۶۵ء: ”مرزا بشیر الدین محمود انتقال کر گئے صدر کی طرف سے اظہار تعزیت راولپنڈی، پیر۔صدر ایوب خان نے جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیر الدین محمود احمد کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے انہوں نے مرحوم کے بیٹے مرزا ناصر احمد کے نام ایک پیغام میں دعا کی ہے کہ خدا مرحوم کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔مرزا بشیر الدین محمود احمد کا انتقال اتوار کو رات کے دو بجگر میں منٹ پر ہوا تھا۔وہ سپٹی سیمیا کے عارضہ میں مبتلا تھے اور گذشتہ تین روز سے ان کی حالت تشویشناک تھی۔مرحوم کی رسم تدفین منگل کی صبح کور بوہ میں ادا کی جائے گی۔اس سے قبل جماعت احمدیہ کے نئے خلیفہ کا انتخاب عمل میں آئے گا۔مرزا بشیر الدین ۵۱ سال تک جماعت کے سربراہ رہے ہیں انہوں نے ۷۶ سال کی عمر میں انتقال کیا ہے۔ان کی وفات کی خبر سن کر احمد یہ فرقہ کے ارکان بڑی تعداد میں ربوہ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔غیر ممالک سے بھی احمدی پاکستان پہنچ رہے ہیں۔“ لیا نوائے وقت لاہور ۹ نومبر ۱۹۶۵ء: احمدیہ فرقہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود انتقال کر گئے