تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 149
تاریخ احمدیت۔جلد 23 149 سال 1965ء ہی زیارت کا سلسلہ شروع کر دیا گیا جو تمام دن اور پھر رات کو نصف شب کے بعد تک جاری رہا۔باری باری کچھ وقت کے لئے مستورات کو زیارت کا موقع دیا گیا اور کچھ وقت کے لئے مردوں کو۔جملہ احباب باری باری ایک قطار کی شکل میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے جنازہ کے پاس سے گزر کر زیارت کا شرف حاصل کرتے رہے۔زیارت حاصل کرنے والوں کی قطاریں قصر خلافت کے اندر سے شروع ہو کر باہر سڑک پر دور دور تک پھیلی ہوئی نظر آتی تھیں۔کسی وقت بھی ان طویل قطاروں میں کمی نہیں آئی باہر سے آنے والے احباب ربوہ پہنچتے ہی ان قطاروں میں آ آ کر شامل ہو جاتے رہے قطار میں اس قدر طویل تھیں کہ بعض احباب کو اپنی باری کے لئے کئی کئی گھنٹے کھڑے رہ کر انتظار کرنا پڑا۔اس موقع پر احباب کی بے تابی اور اضطراب کی حالت قابل دید تھی اور ایک نشان کا درجہ رکھتی تھی ہر شخص اس انتظار میں بے حال ہوا جار ہا تھا کہ اسے اپنے جان و دل سے عزیز محسن آقا کے چہرہ مبارک کی آخری بار ایک جھلک نصیب ہو جائے احباب جب آخری زیارت کا شرف حاصل کر کے قصر خلافت سے باہر آتے تھے تو ان کی حالت ہی اور ہوتی تھی۔ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل فگار نظر آتا تھا۔بعض احباب کی تو شدت غم سے چھینیں بھی نکل جاتیں اور بعض بچوں کی طرح روتے اور بلکتے ہوئے باہر آتے۔100 رودادا جلاس مجلس انتخاب خلافتِ احمدیہ سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے وصال کے بعد قواعد مقررہ انتخاب جانشین کے مطابق نئے خلیفہ کا انتخاب عام حالات میں ۲۴ گھنٹے کے اندر اندر ہونا چاہیئے تھا۔چنانچہ اراکین مجلس انتخاب کو اطلاع دی گئی اور اخبار الفضل میں بھی اعلان کیا گیا۔مورخہ ۸-۹ نومبر کی درمیانی شب بعد نماز عشاء مسجد مبارک میں مجلس انتخاب خلافت کا با قاعدہ اجلاس منعقد ہوا۔سیکرٹری مجلس مشاورت نے ضابطۂ انتخاب منظور شدہ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء پڑھ کر بتایا اور کارروائی اجلاس زیر صدارت حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ناظر اعلی صدر انجمن احمد یہ شروع ہوئی۔ہر رکن مجلس انتخاب سے مقررہ حلف نامہ پر دستخط بھی لئے گئے۔اور صدر مجلس نے زبانی طور پر بھی حلف لیا۔حلف کے مقررہ الفاظ حسب ذیل ہیں:۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اعلان کرتا ہوں کہ میں خلافت احمدیہ کا قائل ہوں اور کسی