تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 148
تاریخ احمدیت۔جلد 23 148 سال 1965ء کی تصویر بنے ہوئے تھے۔وصال کے معاً بعد احباب ہزاروں کی تعداد میں مسجد مبارک میں آ جمع ہوئے اور فجر تک نوافل ادا کرتے رہے۔احباب کی کثرت کی وجہ سے مسجد میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔نماز فجر پڑھانے سے قبل محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے احباب سے خطاب کرتے ہوئے احباب کو بکثرت دعائیں کرنے کی تحریک کی۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کا محبوب بندہ محمود (اللہ آپ سے راضی ہو ) اپنے پیارے آقا سے جاملا - إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔حضور نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ خدمت اسلام کے لئے وقف رکھا۔ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی حضور کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف رکھیں اور دنیا میں اسلام کو سر بلند کرنے کے لئے قربانیاں پیش کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ان ایام میں ہمیں خصوصیت سے بکثرت استغفار کرنی چاہیئے اور خاص طور پر سورہ فاتحہ کو کثرت سے پڑھنا چاہیئے۔اُس وقت جملہ حاضرین پر خاص رقت کا عالم طاری تھا۔نماز فجر میں رکوع کے بعد قیام اور سجدوں کے دوران بہت گریہ و زاری سے دعا کی گئی۔ان دعاؤں کے دوران لوگوں کی چیخیں نکل نکل گئیں اور ہچکیوں اور سسکیوں کی درد ناک آوازوں سے مسجد گونج اٹھی۔غسل نماز فجر کے معا بعد سید نا حضرت خلیفہ لمسیح الثانی کو نسل دیا گیا۔غسل حضرت مرزا عزیز احمد نا خلیفۃالمسیح صاحب ناظر اعلیٰ ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب، محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح و ارشاد، مکرم سید عبدالرزاق شاہ صاحب، مکرم مولانا عبدالمالک خان صاحب مربی سلسلہ مقیم کراچی، مکرم صوفی غلام محمد صاحب ناظر بیت المال اور مکرم مولوی محمد احمد صاحب جلیل نے دیا۔مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کی روایت کے مطابق اس میں محترم سید داؤد احمد صاحب بھی شامل تھے۔آخری زیارت کا شرف ہزاروں کی تعداد میں احباب بیرون جات سے ربوہ پہنچ رہے تھے اور ان کی آمد کا سلسلہ ہرلمحہ جاری تھا اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ حضور کے چہرہ مبارک کی زیارت کا موقع دینے کا انتظام اولین فرصت میں کیا جائے تا کہ سب احباب زیارت کا شرف حاصل کر سکیں اور کوئی فرد بھی ایسا نہ ہو کہ جو اپنے آقا کی آخری زیارت کے شرف سے محروم رہ جائے۔چنانچہ ۸ نومبر کو ساڑھے سات بجے صبح سے