تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 147
تاریخ احمدیت۔جلد 23 147 سال 1965ء اٹھانے سے بچالے ہمارا نا صر ہو جائے اور اس عاشق ربّ کریم کو اس دنیا سے جنت اعلیٰ میں بشارتیں ہی ہمارا خدا پہنچاتا رہے۔غرض میں نے اسی جذبہ کے ماتحت اس وقت جسدِ مبارک کے گرد کھڑے ہوئے لڑکوں کو بھی ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اس وقت کی خاص اہمیت کو پیش نظر رکھ کر دعا ئیں کرنے اور اپنے فرائض کو سمجھنے اور رخصت ہونے والے پیارے کے عہد جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے موقعہ پر آپ کے پاس کھڑے ہو کر کئے تھے ان کی یاد دلا کر اس طرح سے ان سب کو بھی عہد واثق کرنے اور ہمیشہ خدمات دین کے لئے کمر بستہ رہنے کی تلقین کی اور کچھ بعد میں لکھ کر باہر بھی بھیجا جو مسجد میں سنایا گیا اور الفضل میں چھپ چکا ہے۔گو ہر وقت میرا دل ڈوب جاتا تھا۔مگر اپنے آپ کو سنبھالے رکھا۔105 عشاق کی دیوانہ وارر بوہ میں آمد مورخہ سے نومبر کو تاروں، ٹیلیفون اور ریڈیو پاکستان سے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تشویشناک علالت کی خبر سننے کے بعد سے ہی بیرون جات کے احباب ہوائی جہازوں، ریلیوں، موٹروں اور بسوں وغیرہ کے ذریعہ بہت کثیر تعداد میں ربوہ پہنچنے شروع ہو گئے تھے۔اور پھر ۸ نومبر کو ریڈیو پاکستان سے حضور کے وصال کی خبر نشر ہونے کے بعد سے تو باہر سے آنے والے احباب کا ایک تانتا بندھ گیا۔ہوائی جہازوں اور ریل گاڑیوں کے علاوہ موٹروں اور بسوں وغیرہ سے اس کثرت سے احباب آ رہے تھے کہ ایک حد تک جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کی آمد کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ایک اندازہ کے مطابق مورخہ ۸ نومبر کی سہ پہر تک بیرون جات کے پندرہ اور بیس ہزار کے در میان احباب ربوہ پہنچ چکے تھے۔اس کے بعد سے بھی احباب کی آمد کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ملک کے کونہ کونہ سے احباب کھنچے چلے آرہے تھے۔ان میں دور و نزدیک شہر ودیہات ہر علاقہ اور ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے۔پُرسوز و پُر درد دعائیں سید نا حضرت خلیلة اصبع الثانی کے وصال کے وقت جو کہ موراد ۸ نومبر بروز دوشنبه صبح دو بیچ کر ۲۰ منٹ پر ہوا تھا۔احباب کثیر تعداد میں احاطہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں موجود تھے اور سب غم واندوہ