تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 146 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 146

تاریخ احمدیت۔جلد 23 146 سال 1965ء خدا قریب و مجیب خدا سمیع و بصیر خدا ہماری دعاؤں کوسن اور ہم کو غلط قدم اٹھانے سے بچا لینا۔یہ نازک وقت ہم پر آیا ہے دستگیری فرما را ہنمائی فرما اور ہم کو مبارک فیصلہ کی توفیق بخش۔تو ہی بہتر جاننے والا ہے۔ربنا اهدنا الصراط المستقيم ربنا انا نعوذ بك من جهد البلاء ودرك الشقاء وسوء القضاء و شماتة الاعداء۔ایک پیغام۔آسمانی نصرت کا مجسم نشان یا اللہ مددفرما۔آمین مبارکہ حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا یہ پیغام خدا تعالیٰ کی آسمانی نصرت کا مجسم نشان تھا جس کا ظہور حضرت مصلح موعود کے وصال کے معا بعد ہوا۔کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ حضور انور کے اس حادثہ جانگداز کا سب سے نمایاں اثر آپ ہی کے نازک وجود پر ہوا اور اپنے مقدس و مبارک بھائی کی نعش کو دیکھ کر سچ مچ آپ کی آنکھوں میں پورا جہان تاریک ہو گیا۔بایں ہمہ اللہ تعالیٰ کی غیبی قوت نے اپنے فضل سے آپ کو فوری سہارا دیا آپ کی ایسی دستگیری فرمائی کہ آپ کے قلم سے نہایت مختصر وقت میں ایسی اثر انگیز تحریریکلی جس نے لاکھوں غمزدہ دلوں کو طمانیت اور تسکین سے بھر دیا یقینا یہ روح القدس کا کرشمہ بلکہ مجزہ تھا۔چنانچہ آپ خود فرماتی ہیں:۔ر جس وقت میرے محبوب بھائی سید نا خلیفہ اسیح الثانی نے اس جہان میں آخری سانس لیا اور وہ اپنے محبوب حقیقی کے حضور میں حاضر ہو گئے۔ایک لمحہ کے لئے محسوس ہوا کہ میں گری جارہی ہوں۔دنیا میری نظروں میں اندھیر ہو گئی۔مگر اس وقت گویا ایک دست رحمت نے مجھے سہارا دیا۔میرے دل کو سنبھال لیا اور ایک غیبی طاقت نے مجھے کھڑا کر دیا۔اندرونِ قلب سے ایک آواز نکلتی معلوم ہوئی کہ ایسے مبارک اور مفید وجود جب دنیا سے جاتے ہیں تو یہ وقت مہجور پسماندگان کے لئے محض رونے کا وقت نہیں ہوتا۔بلکہ خود کو سنبھالنے اور جتنی بھی طاقت اللہ تعالیٰ کسی کو بخشے دوسروں کو سنبھالنے اور دعاؤں کا وقت ہے۔اور یہی ان کے لئے محبت کا بہترین اظہار اور ان کے احسانوں کا بدلہ ہے کہ دعا سے ان کی تمناؤں اور مقاصد کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ سے نصرت طلب کریں اور اس وقت کی یہ تڑپ اس ولی درفیق ونصیر کو پکارنے میں صرف ہونی چاہیئے تا کہ اس کا ہاتھ ہمیں سنبھال لے۔گمراہی سے غلط قدم