تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 137 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 137

تاریخ احمدیت۔جلد 23 137 سال 1965ء تھے۔خاندان کے چھوٹے بڑے سبھی کے دل اندیشوں کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے تاہم زبان پر کوئی کلمہ بے صبری کا نہ تھا اور امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا تھا۔اندیشے دھوئیں کی طرح آتے اور جاتے تھے۔تو کل علی اللہ اور نیک امید غیر متزلزل چٹان کی طرح قائم تھے۔وہ جو صاحب تجر بہ نہیں شاید اس بظاہر متضاد کیفیت کو نہ سمجھ سکیں لیکن وہ صاحب تجر بہ جو اپنے رب کی قضا کے اشاروں کو سمجھنے کے باوجوداس کی رحمت سے کبھی مایوس ہونا نہیں جانتے میرے اس بیان کو بخوبی سمجھ جائیں گے۔پس افکار کے دھوئیں میں گھری ہوئی ایک امید کی شمع ہر دل میں روشن تھی اور آخر تک روشن رہی تاہم کبھی کبھی یہ فکر کا دھواں دم گھونٹنے لگتا تھا۔دعا ئیں سب ہونٹوں پر جاری تھیں اور ہر دل اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھا۔حضور پر کبھی غنودگی طاری ہوتی تو کبھی پوری ہوش کے ساتھ آنکھیں کھول لیتے اور اپنی عیادت کرنے والوں پر نظر فرماتے۔ایک مرتبہ بڑی خفیف آواز میں برادرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کو بھی طلب فرمایا لیکن جیسا کہ مقدر تھا رفتہ رفتہ یہ غنودگی کی کیفیت ہوش کے وقفوں پر غالب آنے لگی اور جوں جوں رات بھیگتی گئی غنودگی بڑھتی رہی۔اس وقت بھی گو ہماری تشویش بہت بڑھ گئی تھی لیکن یہ تو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ حضور کی یہ آخری رات ہے جو آپ ہمارے درمیان گزار رہے ہیں۔تقریباً گیارہ بجے شب ذرا ستانے اور ایک لاہور سے تشریف لائے ہوئے مہمان کو گھر چھوڑنے گیا اور عزیزم انس احمد کو تاکید کر گیا کہ اگر ذرا بھی طبیعت میں کمزوری دیکھو تو اسی وقت بذریعہ فون مجھے مطلع کر دو۔نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر بستر پر لیٹے ابھی چند منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ فون کی دل ہلا دینے والی گھنٹی بجنے لگی۔مجھے فوری طور پر پہنچنے کی تاکید کی جا رہی تھی۔اُسی وقت جلدی سے وضو کر کے ایک نا قابلِ بیان کیفیت میں وہاں پہنچا۔قصر خلافت میں داخل ہوتے ہی مکرم ڈاکٹر مسعود احمد صاحب اور مکرم ڈاکٹر ذکی الحسن صاحب کے پژمردہ چہروں پر نظر پڑی جو باہر برآمدے میں کرسیوں پر بیٹھے تھے۔حضور کے کمرہ میں پہنچا تو اور ہی منظر پایا۔کہاں احتیاط کا وہ عالم کہ ایک وقت میں دو افراد سے زائد اس کمرہ میں جمع نہ ہوں اور کہاں یہ حالت کہ افراد خاندان سے کمرہ بھرا ہوا تھا۔حضرت سیدہ ام متین اور حضرت سیدہ مہر آپا بائیں جانب سرہانے کی طرف اداسی کے مجسمے بنی ہوئی پٹی کے ساتھ لگی بیٹھی تھیں۔برادرم (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب دائیں طرف سرہانے کے قریب کھڑے تھے اور حضرت بڑی پھوپھی جان اور حضرت چھوٹی پھوپھی جان بھی چارپائی کے پہلو میں ہی