تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 138 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 138

تاریخ احمدیت۔جلد 23 138 سال 1965ء کھڑی تھیں۔میرے باقی بھائی اور بہنیں بھی جو بھی ربوہ میں موجود تھے سب وہیں تھے اور باقی اعزاء و اقرباء بھی سب ارد گرد اکٹھے تھے۔سب کے ہونٹوں پر دعا ئیں تھیں اور سب کی نظریں اس مقدس چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔سانس کی رفتار تیز تھی اور پوری بے ہوشی طاری تھی۔چہرے پر کسی قسم کی تکلیف یا جدوجہد کے آثار نہ تھے۔میں نے کسی بیمار کا چہرہ اتنا پیارا اور ایسا معصوم نظر آتا ہوا نہیں دیکھا۔میں نہیں جانتا کہ اس حالت میں ہم کتنی دیر کھڑے رہے اور سانس کی کیفیت میں وہ کیا تبدیلی تھی جس نے ہمیں غیر معمولی طور پر چونکا دیا۔اُس وقت مجھے پہلی مرتبہ یہ غالب احساس ہوا کہ گو خدا تعالیٰ قادر مطلق اور حی و قیوم ہے اور ہر آن اپنی تقدیر کو بدل سکتا ہے لیکن وہ تقدیر جس سے ہمارے نادان دل گھبراتے تھے وہ تقدیر آ پہنچی ہے۔پس اُسی وقت میں نے قرآن کریم طلب کیا اور اُس مقدس وجود کی روحانی تسکین کی خاطر جس کی ساری زندگی قرآن کریم کے عشق اور خدمت میں صرف ہوئی سورہ یسین کی تلاوت شروع کر دی۔یہ ایک مشکل گھڑی تھی اور سر سے پاؤں تک میرے جسم کا ذرہ ذرہ کانپ رہا تھا۔اس وقت مجھے صبر کی طنا میں ڈھیلی ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں۔اس وقت میں نے اپنے چاروں طرف سے گھٹی گھٹی سیکیوں کی آوازیں بلند ہوتی ہوئی سنیں۔لیکن خدا گواہ ہے کہ ہر سکی دعا میں لپٹی ہوئی اور ہر دُعا آنسوؤں میں بھیگی ہوئی تھی۔سورۃ بین کی تلاوت کے دوران ہی میں سانس کی حالت اور زیادہ تشویشناک ہو چکی تھی۔اور تلاوت کے اختتام تک زندگی کی کشمکش کے آخری چند لمحے آپہنچے تھے۔میں نے قرآن کریم ہاتھ سے رکھ دیا اور دوسرے عزیزوں کی طرح قرآنی اور دیگر مسنون دعاؤں میں مصروف ہو گیا۔حضور نے ایک گہری اور لمبی سانس لی جیسے معصوم بچے روتے روتے تھک کر لیا کرتے ہیں اور ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے یہ آپ کی آخری سانس ہے۔اسی وقت میں نے ایک ہومیو پیتھک دوا کے چند قطرے پانی میں ملا کر اپنی تشہد کی انگلی سے قطرہ قطرہ حضور کے ہونٹوں میں ٹپکانے شروع کئے اور ساتھ ہی بے اختیار ہونٹوں پر یہ دعا جاری ہوگئی کہ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيْتُ۔اس وقت سانس بند تھی اور جسم ٹھنڈا ہو رہا تھا اور بظاہر زندگی کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا لیکن اچانک ہم نے حتی وقیوم خدا کا ایک عظیم معجزہ دیکھا۔مجھے حضرت پھوپھی جان کی بے قرار آواز سنائی دی کہ دیکھو بھی پاؤں میں حرکت ہوئی تھی ، اور ان الفاظ کے ساتھ ہی ہونٹوں میں بھی خفیف سی حرکت ہوئی اور سانس لینے کا سا اشتباہ ہوا۔معاً شدید