تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 112
تاریخ احمدیت۔جلد 23 112 سال 1965ء استانی مریم بیگم صاحبہ اہلیہ حافظ روشن علی صاحب سے قرآن کریم با ترجمہ پڑھنا شروع کیا آدھا ہی پڑھا تھا کہ چھٹی سرکاری کام کی وجہ سے منسوخ ہو گئی جس کا انہیں بہت افسوس ہوا اور اکثر کہتے کہ کاش ایسا موقع ملے کہ کبھی رمضان شریف ربوہ میں گذرے وہاں روزے رکھوں اور قرآن کریم با ترجمہ پڑھوں۔گھر میں دن میں کئی مرتبہ تلاوت کرتے۔کھانے کے میز پر بھی صبح قرآن کریم لے بیٹھتے تا کہ جب تک چائے نہیں آتی تلاوت کرتا رہوں۔باہر جانا ہوتا اور ابھی ۱۰/۵ منٹ باقی ہوتے تو قرآن کریم نکال لیتے تا کہ وہ وقت بھی تلاوت میں صرف ہو۔تبلیغ احمدیت کا شوق انتہا تک پہنچا ہوا تھا۔بوجہ سرکاری ملازم ہونے کے تبلیغ احمدیت نہ کر سکتے تھے لیکن سلسلہ کی تمام کتب گھر میں منگوا کر رکھی ہوئی تھیں اور سلسلہ کا کوئی رسالہ ایسا نہ تھا جو ہمارے گھر نہ آتا ہو۔سلسلہ کی کتب کثرت سے دوستوں کو پڑھنے کو دیتے بعض دفعہ میں کہتی کہ کچھ عرصہ کے بعد کتاب واپس لے لیا کریں وگرنہ گم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔کہتے چلو کوئی بات نہیں کسی کے گھر میں پڑی رہے گی کبھی تو اسے توفیق ملے گی کہ اس پر نظر ڈالے ہم ربوہ سے اور منگوالیں گے۔مجھ سے کئی دفعہ اظہار کیا کہ میرا دل چاہتا ہے جب میں ریٹائر ڈ ہو جاؤں اور اللہ میاں مجھے روپیہ دے تو میں سب سے پہلے ایک بہت بڑی لائبریری سلسلہ کی کتب کی بناؤں اور پھر ذاتی تنخواہ سے ایک ایسا مبلغ وہاں رکھوں جو کہ ہر وقت سلسلہ کی تبلیغ کرے۔اور ان کا تمام خرچ خودا ٹھاؤں اور لوگ دن رات لائبریری میں آکر سلسلہ کی کتب پڑھیں اور ہمارے مبلغ سے تبادلہ خیالات کریں۔صدقہ و خیرات بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر کرتے تھے۔ہر مشکل پیش آنے پر بجائے ادھر اُدھر دوڑ دھوپ کرنے کے دعا اور صدقہ خیرات پر زور دیتے۔اگر کوئی منذر خواب دیکھ لیتے تو اسی وقت بکرا منگوا کر صدقہ دے دیتے۔بعض اوقات دو دو تین تین بکرے اکٹھے منگوا کر گوشت غرباء میں تقسیم کروا دیتے اور بہت خوشی محسوس کرتے اور مستحقین کے نام یاد کر کر کے بتاتے کہ فلاں جگہ ضرور بھجوانا۔اپنی تنخواہ کا خاصہ معقول حصہ صدقہ و خیرات، چندوں ، بزرگوں کی خدمت میں نذرانوں اور سلسلہ کے رسائل اور کتب کی خریداری میں صرف کرتے۔خود سادہ اور تکلف سے مبر ازندگی بسر کرتے اور اس طریق سے جو بچت ہوتی اسے خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے خرچ کرتے۔اگر کسی کو ادھاریا قرض دیتے تو باوجود اس کے کہ خود روپے کی ضرورت ہوتی کبھی واپس نہ مانگتے۔اگر کوئی قرض لینے والا غریب آدمی ہوتا تو مجھے کہتے کہ اسے قرض کی واپسی پر اصرار نہ کرنا جب بھی ہوگا دے جائے گا اور