تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 111
تاریخ احمدیت۔جلد 23 111 سال 1965ء قبل جبکہ کوئٹہ میں مقیم تھے حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری سے تعلقات محبت بڑھائے اور ان کی بھی دعائیں لیں۔کوئٹہ کی مسجد میں نماز مغرب ادا کرنے جاتے۔میں پوچھتی آپ بہت دیر سے گھر آئے ہیں کہتے بس نماز پڑھ کر حضرت مولوی صاحب کے گھٹنے کے پاس بیٹھ جاتا ہوں۔اللہ میاں کہتا ہے كُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ (التوبہ: ۱۱۹) صادقوں کی صحبت اختیار کرو۔سو میں بھی اسی لئے گھٹنا پکڑ کر بیٹھ جاتا ہوں کہ شاید میرا شمار بھی صادقوں میں ہو جائے۔اس کے علاوہ حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری سے بھی خط و کتابت رہتی تھی۔آج بھی حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کا سلوک میرے ساتھ بیٹیوں جیسا ہے اور انہوں نے میرے اس غم کو اپنا غم سمجھا ہے اور مجھے اپنے قیمتی مشوروں اور دعاؤں سے نوازتے ہیں۔الحمد للہ۔خود بھی بہت دعا کرتے تھے اور خدا تعالیٰ پر توکل اور دعاؤں پر اعتماد بہت تھا۔رن کچھ کے محاذ سے واپسی پر مجھ سے اکثر ذکر کیا کرتے تھے کہ میں وہاں ساری ساری رات دعائیں کرتا تھا اور مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے تمہارے لئے اور بچوں کے لئے بھی بہت دعا کی توفیق ملی ہے۔مجھے سردرد کی تکلیف لمبے عرصے سے ہے۔مجھے کہا کرتے تھے کہ میں نے اس قدر دعا تمہارے اس مرض کی دوری کے لئے کی ہے کہ یہ اب انشاء اللہ بغیر دوا کے رفع ہو جائے گی۔اسی طرح چھوٹا بچہ پیٹ کی خرابی سے بہت بیمار رہتا تھا۔میں نے ایک مرتبہ کہا کہ اسے با قاعدہ ہسپتال میں داخل کروا کے اب اس کا علاج کراؤں گی۔کہنے لگے ابھی ٹھہر جاؤ مجھے کچھ عرصہ با قاعدگی اور زور سے دعا کر لینے دو۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس قدر دعاؤں میں شغف اور اعتماد تھا۔سوخدا تعالیٰ کے فضل سے بغیر ہسپتال داخل کرائے بچہ ٹھیک ہو گیا۔بچے خواب بھی بہت دیکھتے تھے اور اپنے خواب اکثر مجھے سناتے رہتے تھے جو کہ اپنے وقت پر پورے بھی ہو جاتے۔عبادت گزار تھے۔نماز تہجد ایک لمبے عرصے سے با قاعدگی کے ساتھ پڑھتے تھے۔نماز باجماعت کا اس قدر شوق تھا کہ کوئٹہ چھاؤنی سے ۳ میل دور مسجد احمد یہ میں نماز مغرب ادا کر نے باقاعدگی سے جاتے۔گرم سرد ہوائیں ان کے راستہ میں حائل نہ ہوتیں اور جاتے بھی سائیکل پر تھے۔عشاء کی نماز پڑھ کر ۶ میل کا راستہ سائیکل پر طے کر کے آتے۔بعض اوقات مجھے کہتے سب دوست کہتے ہیں کہ اتنی دور سے نماز باجماعت پڑھنے آتا ہے۔بڑا مخلص ہے اللہ بہتر جانتا ہے میں کیسا ہوں اور کیسا نہیں۔یہ ان کی انکساری تھی۔قرآن کریم کی تلاوت سے عشق تھا۔اور بہت خواہش رکھتے تھے کہ تمام قرآن کریم کسی سلسلہ کے عالم سے با ترجمہ پڑھیں اس مقصد کے لئے دوماہ کی رخصت بھی ایک دفعہ لی اور محترمہ