تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 113 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 113

تاریخ احمدیت۔جلد 23 113 سال 1965ء اگر نہ بھی دے گا تو کوئی حرج نہیں۔اپنے محکمانہ فرائض کی ادائیگی میں نہایت درجہ فرض شناس اور محنتی افسر تھے۔کبھی اس بات کا لحاظ نہ رکھتے تھے کہ کتنا وقت میں نے دفتر میں صرف کیا ہے بلکہ یہ دیکھتے تھے کہ جو کام میرے ذمہ ہے وہ مکمل ہوا ہے یا نہیں۔خواہ صبح سے شام تک دفتر میں بیٹھا رہنا پڑتا ایسے موقعوں پر کھانے کی بھی پرواہ نہ کرتے بلکہ کھانا بھول ہی جاتے۔اور جب فارغ ہو کر گھر آتے تو کبھی مجھے یہ محسوس نہ ہوتا کہ وہ مسلسل بارہ گھنٹے فائلوں پر جھکے رہنے کے بعد گھر لوٹے ہیں۔چہرہ پر وہی تازگی ، وہی شگفتگی، وہی مسکراہٹ۔ایسے لگتا جیسے سیر سے واپس آرہے ہوں۔تینوں بچے دائیں بائیں سے گھیر لیتے کوئی شانوں پر جا چڑھتا۔کبھی نہ جھڑکتے ہمیشہ پیار سے سمجھاتے اور کہتے بیٹا ٹھہر جاؤ وردی اتارلوں۔نماز پڑھ لوں۔پھر آپ سے کھیلوں گا۔وہ دلکش مسکراہٹ ، شگفتہ باتیں، دلنشیں عادتیں اور دلفریب چہرہ ہر وقت آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے۔دل خلش محسوس کرتا ہے لیکن پھر سوچتی ہوں کہ ہر ایک کوجلد یا بدیر یہی راہ اختیار کرنا ہے۔مبارک ہیں وہ جو جئے تو خدا کی رضا کے حصول میں کوشاں رہے اور مرے تو شہید کی موت۔یعنی مرکز بھی زندہ رہے۔جنت کا پھول تھے۔خدا تعالیٰ نے جنت کے گلدستے میں لگانے کو چن لیا لیکن ایسے گوہر نایاب کو کھو دینے کے بعد کونسی آنکھ ہے جو پر نم نہ ہو۔9 سالہ رفاقت کی زندگی میں نیکیاں ہی نیکیاں یادگار چھوڑ گئے۔دل خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ صدا بھی نکلتی ہے۔حیف! در چشم زدن صحبت یار آخر شد روئے گل سیر نہ دیدیم و بہار آخر شد میجر قاضی بشیر احمد صاحب شہید 83 دفاع وطن میں جو احمدی مجاہد کام آئے ان میں میجر قاضی بشیر احمد صاحب شہید بھی تھے۔جناب نصیر احمد صاحب شاد راولپنڈی آپ کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ عزیزم میجر قاضی بشیر احمد صاحب شہید ۲۰ ستمبر ۱۹۲۶ء کو حضرت قاضی محمد یوسف صاحب سابق امیر جماعتہائے احمد یہ سرحد کے ہاں بمقام ہوتی مردان میں پیدا ہوئے۔میٹرک سے قبل تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں تعلیم پائی۔عرصہ زیر تعلیم بورڈنگ ہاؤس قادیان میں مقیم رہے۔۱۹۴۶ء میں پنجاب