تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 100
تاریخ احمدیت۔جلد 23 100 سال 1965ء صاحبہ ( ان کی بیگم ) نے بتایا کہ یہ آج دو دن کے بعد ا بھی گھر آئے ہیں۔کہنے لگے کہ آجکل جنگ کے دن ہیں ہماری دن رات ڈیوٹی رہتی ہے۔میں ابھی صرف تھوڑی دیر کے لئے گھر آیا ہوں اور ابھی پھر جا رہا ہوں۔وہ جلد جلد باتیں کر رہے تھے اور میں محسوس کر رہا تھا کہ آج انہیں ڈیوٹی پر جانے کی بہت جلدی ہے۔میں نے دریافت کیا کہ سنائیے آج کل جنگ کا کیا حال ہے۔پاکستان کی کیسی پوزیشن ہے۔بڑے جذ بہ اور جوش سے کہنے لگے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم بہت کچھ کر رہے ہیں۔بس آپ لوگوں کی دلی دعائیں ہمیں درکار ہیں۔مزید گفتگو سے اجتناب کرتے ہوئے مجھ سے ہاتھ ملایا اور چلے گئے۔میں ان کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔خدا جانے میرے دل کو اس وقت کیا ہورہا تھا۔میرا دل چاہتا تھا کہ میں دوڑ کر انہیں گلے لگالوں۔یہ 9 ستمبر کی بات ہے اس سے دوسرے دن یعنی۔استمبر کو انہوں نے دشمن کے علاقہ میں جا کر سخت لڑائی کے دوران دشمن کا ایک طیارہ مار گرایا۔مرحوم بہترین نشانچی شمار ہوتے تھے۔تیسرے دن ا استمبر کو وہ پھر حملہ کرنے کے لئے گئے مجھے ان کے دو ساتھیوں نے بتایا کہ وہ ہم سے یہ کہہ کر گئے تھے۔اچھا خدا حافظ آج میں انشاء اللہ دشمن کے اڈہ کو تباہ کر کے آؤں گا اور اپنی جان کی کوئی پرواہ نہ کروں گا۔یہ اس جانباز بہادر اور مجاہد وطن کے آخری الفاظ تھے۔اس مرد مجاہد نے جو کچھ کہا تھا بالکل وہی کر کے دکھا دیا۔اس دلیر اور بہادر نوجوان نے دشمن کی آگ برساتی ہوئی تو پوں کے درمیان اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پے در پے سخت حملے کئے یہاں تک کہ دشمن کے اڈہ کو تہس نہس کر دیا اور خود بھی وہیں شہید ہو گیا۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔ہزار ہزار رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں شہید کی روح پر۔اس سے قبل انہوں نے دشمن سے آٹھ مقابلوں میں حصہ لیا اور نہایت دلیری اور جرات کا نمونہ دکھلایا۔166 تیسرا ہوا باز تو میں ہوں جناب! سکوارڈن لیڈر منیر الدین احمد شہید کسی نہ کسی طرح ہر حملے میں شامل ہو جاتے تھے ذیل کا مضمون روزنامہ مشرق ۶ ستمبر ۱۹۶۶ء میں مندرجہ بالا عناوین کے ساتھ شائع ہوا:۔’ جنگ چھڑے چھ روز گزر چکے تھے اور میدان جنگ کے ہنگاموں سے بہت دور فضائیہ کے ایک اڈے پر اترنے اور چڑھنے والے لڑا کا بمباروں کی گرج سے ظاہر ہوتا تھا کہ پرسکون مقام پر سرگرمی حالات کی نزاکت کی علامت ہے۔