تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 101
تاریخ احمدیت۔جلد 23 101 سال 1965ء دو پہر ہو چلی تھی۔اڈے کے آپریشن روم میں ونگ کمانڈ رمحمد انور شمیم اس روز کی انتہائی اہم اور خطرناک مہم کے لئے ہوابازوں کو ہدایت دینے والے تھے۔اس مہم کا نشانہ امرتسر کا ریڈار سٹیشن تھا۔شمیم نے اس مشن کے لئے تین ہوا باز منتخب کئے تھے۔انہوں نے پکارا تو ان میں سے صرف دو آئے۔تیسرے کے متعلق انہوں نے ونگ آپریشن آفیسر سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد صاحب سے دریافت کیا انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ” تیسرا تو میں ہوں جناب“۔د ولیکن میں نے تو آپ کا نام اس مہم میں نہیں رکھا تھا۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے فلائنگ آفیسر مسعود کو منتخب کیا تھا۔یہ ٹھیک ہے سرا لیکن مسعود تو پہلے ہی ایک مہم پر گیا ہوا ہے منیر نے جواب دیا۔اور شمیم اب کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن یہ پہلا موقع نہ تھا۔اس ریڈار سٹیشن پر پہلے جتنے حملے ہوئے تھے ان میں بھی سکواڈرن لیڈر منیر ضرور شامل ہوئے تھے۔منیر کو اس دنیا میں یا تو اپنے بال بچوں سے الفت تھی یا پرواز سے، جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک وہ آٹھ مرتبہ زمینی فرائض دوسرے ساتھیوں کے سپرد کر کے فضائی حملوں میں شریک ہو چکے تھے۔اس مرتبہ پھر وہ تیار ہو گئے تھے اور ونگ کمانڈر شمیم بولے ”اچھا بھئی تم ہی سہی۔اسکے بعد انہوں نے ہدایات جاری کیں۔تقریباً نصف گھنٹے بعد پاک فضائیہ کے چار سیر دشمن کی تباہی کا سامان بازوؤں میں دبائے پرشکوہ انداز میں اڈے سے اڑے اور نشانے کی طرف روانہ ہو گئے۔دس منٹ بعد وہ دشمن کے علاقے پراڑ رہے تھے۔وہ کم بلندی پر امرتسر کی طرف جارہے تھے کہ اچانک دشمن کی توپوں کے دہانے کھل گئے۔پہلے تو اکا دُکا گولہ آیا لیکن رفتہ رفتہ تانتا بندھ گیا۔ہلکی بھاری ہر قسم کی طیارہ شکن تو ہیں آگ اُگل رہی تھیں۔ہمارے طیاروں کے چاروں طرف گولے پھٹ رہے تھے لیکن آگ کے اس کھیت میں وہ گویا ہل چلاتے ہوئے منزل کی جانب بڑھتے رہے۔منیر اس دستے کے ڈپٹی لیڈر تھے۔انہوں نے نشانے پر جھپٹنے کی تیاری مکمل کی۔دوسرے طیارے اوپر اٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگے ادھر دشمن کے سارے تو بچیوں نے اپنا رخ منیر کی طرف کر دیا تھا۔دھماکوں کے ارتعاش سے ان کا طیارہ ڈول رہا تھا لیکن وہ پورے انہماک کے ساتھ