تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 84 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 84

تاریخ احمدیت۔جلد 23 84 سال 1965ء تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ GHQ نے بھی یہی غلطی کی تھی۔ان کو اس بات پر پختہ یقین تھا کہ اگر جنرل اختر ملک کی چھمب جوڑیاں کے محاذ پر پیش قدمی روکی نہ جاتی تو انہوں نے کشمیر میں بھارتی فوج کی اکثریت کو ہلاک کر دینا تھا۔مگر ایوب چاہتے تھے کہ بیٹی اس مقابلہ میں ہیرو کے طور پر ابھرے۔جنرل ملک غیر معمولی قابلیت کے حامل جنرل تھے۔وہ ایک عظیم سپہ سالار تھے اور ایک باہمت اور جرات مند انسان تھے۔جو فوجی حکمت عملی کے فن کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ان کے پائے کا جنرل پھر کبھی پاکستان کی افواج نے پیدا نہیں کیا۔مغربی پاکستان پر بھارتی فوج کا حملہ بھارت نے چھمب جوڑیاں میں اپنی شکست کا انتقام لینے کے لئے ۵-۶ ستمبر ۱۹۶۵ء کی درمیانی شب کو مغربی پاکستان پر اچانک حملہ کر دیا۔منصوبہ یہ تھا کہ ستمبر کو واہگہ کی طرف سے لاہور پر قبضہ کر لیا جائے۔ستمبر کو قصور کی جانب سے بڑھتی ہوئی فوج واہگہ کی طرف سے پیشقدمی کرنے والی فوج کے ساتھ جرنیلی سڑک پر آن ملے عین اس موقع پر آخری کاری ضرب لگائی جائے گی اور سیالکوٹ کی طرف سے بڑھتی ہوئی فوج گوجرانوالہ اور وزیر آباد کے درمیان کسی مقام پر لاہور کی طرف سے بڑھنے والی فوج سے جاملے گی۔ہ ستمبر کی رات کو بھارتی سپاہ کی پیشقدمی کے ساتھ ہی دہلی میں جشن فتح کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔غیر ملکی اخباری نمائندوں کو لاہور پر قبضہ کی پیشگی اطلاع دے دی گئی حتیٰ کہ لندن کے عالمی نشریاتی ادارہ بی بی سی نے تو لاہور پر قبضہ کی خبر تک شائع کر دی۔علاوہ ازیں بھارتی اخباروں مثلاً پرتاپ، ملاپ وغیرہ نے اپنی حکومت کے ایماء پر لاہور کی فتح کی خبر میں بڑے نمایاں رنگ میں شائع کیں۔صدر پاکستان کا قوم سے ولولہ انگیز خطاب اس حملہ پر محمد ایوب خان صدر پاکستان نے قوم سے ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حق کی فتح ہوگی دشمن پر کاری ضرب لگانے کے لئے تیار ہو جاؤ کیونکہ شکست اور تباہی اس باطل قوت کا مقدر ہے۔جس نے تمہاری سرحدوں پر سر اٹھایا ہے۔مردانہ وار آگے بڑھو اور دشمن پر ٹوٹ پڑو۔