تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 82
تاریخ احمدیت۔جلد 23 82 سال 1965ء تھیں۔اس وقت رن کچھ کی لڑائی میں بھارت کی شکست کی وجہ سے پاکستانی عوام اور فوج دونوں کا مورال بہت بلند تھا۔پھر اسی دوران برطانوی وزیر اعظم کی مداخلت سے رن کچھ کے مسئلہ پر پاک بھارت مصالحت ہو گئی تو جی ایچ کیو نے افواج کو بارڈر سے ہٹا کر واپس چھاؤنیوں میں بھجوا دیا۔اور تمام مورچے بند کر کے دشمن کی متوقع گزرگاہوں اور پلوں سے بارودی سرنگیں وغیرہ کو بھی ہٹا دیا گیا۔لیکن ساتھ ہی ساتھ جی ایچ کیو، کوہ مری ڈویژن کیلئے آپریشن جبرالٹر اور اکھنور پر حملہ کرنے کی تیاریاں بھی کر رہا تھا۔چنانچہ اگست ۱۹۶۵ء میں اکھنور کے محاذ پر پاکستانی دستوں نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ چھمب کے مقام پر دریائے تو ی کو عبور کر کے جوڑیاں کے اہم مقام پر قبضہ کرتے ہوئے بھارتی دفاعی لائن کو تہس نہس کر دیا بلکہ ایک پوری بھارتی آرٹلری رجمنٹ ساری تو پوں اور گولہ بارود سمیت قبضہ میں کر لی اور اب جبکہ دریائے چناب پر اکھنور کا اہم ترین ٹارگٹ صرف چند میل ہی دورہ گیا تھا اور اس پر قبضہ دنوں کی نہیں بلکہ چند گھنٹوں کی بات رہ گئی تھی تو صدر ایوب اور جنرل موسیٰ نے اکھنور پر حملہ جاری رکھنے کی بجائے جنرل اختر ملک کو تبدیل کر کے جنرل یحیی خان جیسے کھلنڈرے جرنیل کو اکھنور آپریشن کا کمانڈر مقرر کر دیا۔اور اس انتہائی بد قسمت اور مہلک تبدیلی کا نتیجہ ویسا ہی نکلا جیسا کہ ۱۹۴۸ء میں مجاہدین کے کمانڈرخورشید انور کے بارہ مولا پہنچ کر سرینگر پر حملہ جاری رکھنے کی بجائے آئندہ حکومت میں اپنا حصہ طے کرنے کیلئے کشمیری لیڈروں کی بارہ مولا کا نفرنس ترتیب دینے کا نکلا تھا۔ہلال جرات کا اعزاز ستمبر ۱۹۶۵ء کی جنگ میں مقبوضہ کشمیر کے علاقہ چھمب جوڑیاں میں کامیاب یلغار کی بہادرانہ قیادت کرنے پر جنرل اختر ملک کو ہلال جرات سے نوازا گیا جو نشان حیدر کے بعد دوسرا بڑا انعام ہے۔اس زمانہ کے معروف اخبار روز نامہ امروز لاہور مورخہ ۸ ستمبر ۱۹۶۵ء کی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے : کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ نے میجر جنرل اختر حسین ملک کو اس اعزاز پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے بڑی مسرت محسوس کرتا ہوں کہ آپ نے آزاد کشمیر کی فوجوں کی حمایت اور پاکستان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے جو شاندار خدمات انجام دیں ہیں ان پر صدر پاکستان نے آپ کو ہلال جرات عطا کیا ہے۔میری طرف سے اس اعزاز پر مبارک باد قبول فرمائیں۔54