تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 81
تاریخ احمدیت۔جلد 23 81 سال 1965ء کے قبرستان کے نام سے موسوم کیا اس طرح وہ چال جسے کلی طور پر فتح پر منتج ہونا چاہیئے تھا نا کا می کا بدنما 51 داغ لے کر ختم ہو گئی۔۱۰۔لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) غلام دستگیر پشاور نے ” آپریشن جبرالٹر۔حالات وواقعات کی روشنی میں“ کے عنوان سے ایک مقالہ سپر قلم کیا جس میں جنرل اختر حسین ملک صاحب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔و, وہ ایک نہایت مخلص محب الوطن ، قابل اور حقیقت پسند شخصیت تھے۔وہ جونیئر افسروں میں زیادہ ہر دلعزیز تھے مگر ان کے سینئر افسران کی قابلیت کی وجہ سے ہمیشہ حسد کرتے تھے وہ ہر مسئلے کو عملی نقطہ نظر سے دیکھتے تھے۔52 ۱۱۔بریگیڈئیر (ر) شمس الحق قاضی صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔جنرل اختر ملک کے سینئر سٹاف کرنل صادق ملک کے مطابق اختر ملک کا پلان صرف اسی قدر تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں سپیشل تربیت کے بعد دخل انداز پارٹیاں بھیجی جائیں جو مقامی آبادی کو ساتھ ملا کر وہ کیفیت پیدا کردیں جو آجکل وہاں موجود ہے۔یعنی ایک طرف تو انڈین آرمی کو پریشان اور DEMORALISE کرنا تھا تو دوسری طرف مقامی آبادی کو ہتھیار بند کر کے جنگ آزادی کیلئے تیار کرنا تھا۔اس کا نام آپریشن جبرالٹر رکھا گیا۔لیکن PRESENTATION کے دوران ایوب خان نے اپنی طرف سے یہ نظریہ پیش کیا کہ دخل اندازی کے ساتھ اکھنور کے مقام پر دشمن کو اس کے نرخرے سے پکڑ کر کیوں نہ بے جان بھی کر دیا جائے۔اس پر جنرل موسیٰ گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ جناب مگر اس کا مطلب تو بھارت کے ساتھ کھلی اور مکمل جنگ ہوگا۔اس پر صدر ایوب نے جواب دیا کر نہیں نہیں موسیٰ تم اس کی فکر نہ کرو مجھے وزارت خارجہ نے یقین دلایا ہے کہ بھارت کبھی بھی بین الاقوامی سرحد کو عبور نہیں کرے گا اور بلکہ یہ معاملہ بھی ۱۹۴۸ء کی طرح کشمیر تک ہی محدودر ہے گا۔اب اس بات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جناب بھٹو نے سوات میں جنرل اختر ملک کے پلان سے بھی بڑھ کر صدر ایوب کو کشمیر پر قبضہ جمانے پر راضی کر لیا تھا۔چنانچہ اب اس کے بعد صدر ایوب کے احکام کے مطابق جی ایچ کیو بھی اس آپریشن میں شامل ہو گیا اور اکھنور پر قبضہ کرنے کیلئے جنرل اختر ملک کو فالتو دستے بھی دیئے گئے۔یہ غالباً مئی جون کی بات ہے جبکہ اپریل تک تو بھارت اور پاکستان کی افواج رن کچھ کے تنازعہ کی وجہ سے بارڈر پر متعین