تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 74
تاریخ احمدیت۔جلد 22 74 سال 1963ء طالب علم (۶) مکرم صلاح الدین ایوبی صاحب (۷) مکرم جلال الدین صاحب (۸) مکرم محمد یوسف صاحب شینوگرافر ریلوے بلڈنگ (۹) مکرم فضل احمد صاحب (۱۰) مکرم سعید الحق صاحب (۱۱) مکرم مصلح الدین صاحب سعدی (۱۲) مکرم مولوی اعجاز احمد صاحب مربی سلسله (۱۳) مکرم لطف الحق صاحب“۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زیر صدارت نگران بورڈ کا آخری اجلاس قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی صدارت میں نگران بورڈ کا آخری اجلاس ۲ جون ۱۹۶۳ء کو منعقد ہوا جس میں متعدد اہم امور بغرض مشورہ پیش ہوئے۔(اس اجلاس کی صدارت کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی زیر صدارت کوئی اور اجلاس نہ ہوا۔پھر آپ کی وفات کے بعد مکرم مرزا عبدالحق صاحب صدر نگران بورڈ بنے اور نگران بورڈ کی تحلیل تک صدر رہے۔) اس اہم اجلاس میں سیدنا حضرت مصلح موعود کے علاج سے متعلق امور کا بہتر انتظام اور عملہ دفاتر کی چھان بین کے لئے دو کمیٹیاں مقرر کی گئیں۔پہلی کمیٹی کے صدر (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور دوسری کمیٹی کے صدر شیخ محمود الحسن ڈھا کہ تجویز ہوئے۔قضاء کے اختیارات بابت سماعت مقدمات سے متعلق فیصلہ ہوا کہ جہاں تک خلیفہ وقت کے فیصلوں کا سوال ہے خواہ وہ انتظامی ہوں یا قضائی وہ بہر حال آخری صورت رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ خود حضور کے پاس نظر ثانی ہونے پر حضور اس کو بدل دیں۔بیرونی ممالک میں خدام الاحمدیہ اور جماعتی تنظیم کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ بیرونی ممالک کے نائب صدر اور دیگر عہدیدار خدام الاحمدیہ ہمیشہ وکیل التبشیر صاحب کے مشورہ سے مقرر کئے جائیں اور مبلغ انچارج ہی نائب صدر خدام الاحمدیہ ہوا کرے۔ایک فیصلہ یہ ہوا کہ آئندہ وقف جدید کا بجٹ بھی مجلس مشاورت میں پیش ہوا کرے اور اگر کوئی ضروری تجویز وقف جدید سے متعلق ہو تو وہ بھی زیر غور لا ئی جائے۔سٹینڈ نگ فنانس کمیٹی بھی اس پر نظر 128 ذیلی تنظیموں سے متعلق حضرت مصلح موعود کی زریں ہدایات کی اشاعت سیدنا حضرت الصلح الموعود نے انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو صحیح خطوط پر چلانے کے لئے برسوں