تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 65 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 65

تاریخ احمدیت۔جلد 22 65 سال 1963ء فرمایا چلتے ہو پنجاب۔دل نے کہا نیکی اور پوچھ پوچھ۔وہ لاہور سے بھاوج صاحبہ مسز عمر کو لینے جا رہے تھے اور ارادہ تھا کہ راستہ میں قادیان میں ٹھہریں گے۔چنانچہ ہم ان کے ہمرکاب ہو گئے۔امرتسر پہنچ کر ہم لوگ قادیان کی طرف مڑ گئے۔قادیان پہنچ کر معلوم ہوا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ڈلہوزی تشریف لے گئے ہیں پھر بھی تمام دن قادیان میں گذرا۔قادیان کے مختلف شعبے سرسری طور پر دیکھے۔بہشتی مقبرہ دیکھا۔اخبار الفضل کے دفتر گئے۔قاضی اکمل صاحب سے ملے اور سہ پہر کو یہ سن کر کہ آج ہی حضرت صاحب ڈلہوزی سے شملہ جاتے ہوئے امرتسر سے گذریں گے ہم لوگ واپس امرتسر آگئے اور امرتسر میں حضرت صاحب سے ملاقات ہو گئی۔خیال تھا کہ ہم کو دیکھتے ہی احمدیت کی تبلیغ شروع کر دیں گے ہم کو بیعت کی دعوت دی جائے گی اور ہم جب انکار کریں گے تو ڈاکٹر صاحب کو ہدایت دی جائے گی کہ ان کو جماعت کا لٹریچر پڑھنے کو دیا جائے مگر نہ وہاں احمدیت کا کوئی ذکر تھا۔نہ بیعت کا کوئی سوال نہ کوئی اور ایسی بات جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ ہم کو غیر احمدی سمجھا جارہا ہے اور احمدی بنانے کی تحریک ہو رہی ہے بلکہ بجائے اس کے حضرت صاحب نے کچھ ادبی اور کچھ شاعرانہ گفتگو چھیڑ دی تا کہ ہم کو کچھ دلچسپی ہو سکے سب نے مل کر ریفریشمنٹ روم میں ہندوستانی کھانا کھایا اور اس کے بعد حضرت صاحب شملہ کی طرف روانہ ہو گئے۔اس پہلی ملاقات میں ان کی گفتگو کا رُخ زیادہ تر سیاسیات کی طرف تھا اور ہم صرف یہ اندازہ کر سکے کہ ان کی مذہبی حیثیت تو در کنار ان کی سیاسی حیثیت بھی نہایت بلند ہونا چاہیئے جو عمیق نظر ان کی سیاست کی باریکیوں پر پڑ رہی تھی۔وہ صرف ایک مشاق ماہر سیاست کی ہو سکتی تھی۔ادبی معاملات میں جو گفتگو آپ نے فرمائی وہ خالص ادبی رنگ لئے ہوئے تھی اور معلوم ہوتا تھا کہ ایک منجھا ہوا ادیب یہ باتیں کر رہا ہے ان تمام باتوں کے علاوہ نگاہیں نیچی، لبوں پر تقسیم اور آواز میں ایک دلکشی غالباً ان ہی باتوں کو غیر احمدی قادیانیوں کی جادوگری 119 کہتے ہوں گے۔10 (۲) گہرستان ” میری نظموں اور غزلوں کا مجموعہ گہرستان کے نام سے عرصہ سے زیر تر تیب تھا اور میں اس کو خود چھاپنا چاہتا تھا۔برادر محترم مولوی محمد عثمان صاحب احمدی نے اس کی طباعت کے لئے تمام انتظامات اس طرح کر دیئے تھے کہ ہلدی لگے نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا آئے چنانچہ ہم کو کچھ صرف کرنا بھی نہیں پڑا اور کتاب بھی خود ہم نے چھاپ لی۔۔۔