تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 64
تاریخ احمدیت۔جلد 22 64 سال 1963ء ایک غیر متعصب ادیب جناب شوکت تھانوی صاحب کی وفات برصغیر پاک و ہند کے نامور اور صاحب طرز ادیب اور مزاح نگار، جناب محمد عمر شوکت تھانوی جن کے سیدنا حضرت مصلح موعود اور سلسلہ کے کئی بزرگوں سے نہایت گہرے روابط و مراسم تھے،اس سال ۴ مئی ۱۹۶۳ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔(ولادت ۱۹۰۴ء ) متحدہ ہندوستان میں اخبار ”ہمدم اودھ ، اخبار ” سرپیچ “ اور ”حق“ میں کام کیا۔تقسیم ملک کے بعد دس سال ریڈیو پاکستان لا ہور۔وابستہ رہے۔پھر روزنامہ جنگ کے عملہ ادارت سے منسلک ہو گئے۔آپ کی شہرت و مقبولیت کا سنگ بنیاد آپ کا مشہور مزاحیہ افسانہ ”سودیشی ریل“ ہے جو ۱۹۳۰ء میں رسالہ نیرنگ خیال لاہور کے سالنامہ چھپا۔برصغیر کے مختلف اردو، ہندی، بنگالی اور مرہٹی اخبارات جن میں یہ افسانہ نقل ہوا یا ترجمہ کر کے چھاپا گیا۔اُن کی تعداد چھپن تھی اس کے علاوہ انگلستان کے اخبار گلوب (Globe) نے اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔سیدنا حضرت مصلح موعود خلیفہ ثانی نے اپنے ایک خطبہ میں بھی اس افسانہ کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔صدر پاکستان محمد ایوب خاں نے آپ کی ادبی اور صحافتی خدمات پر تمغہ امتیاز دیا نیز آپ کی وفات پر خراج تحسین ادا کرتے ہوئے فرمایا ” ملک کی چوٹی کی ادبی شخصیت تھی اور اردو نظم ونثر میں اُن کا حصہ منفرد ہے۔مولانا صلاح الدین صاحب مدیر ادبی دنیا‘ نے کہا۔” مرحوم کا شمار اردو کے چوٹی کے مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔117 جناب شوکت تھانوی صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح حیات مابدولت“ کے نام سے لکھی۔جس میں نہایت دلچسپ انداز میں اپنے سفر قادیان، حضرت مصلح موعود کی ملاقات اور جماعت احمدیہ کے جلسہ ہائے سیرت النبی میں شرکت اور بزرگان سلسلہ سے خصوصی تعلق کے اہم واقعات سپر د قلم فرمائے جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔(۱) پنجاب کا پہلا سفر و کسی کو کلکتہ اور بمبئی دیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔کسی کو کشمیر جنت نظیر کی زیارت کی تمنا مگر ہم کو نہ معلوم کیوں ہمیشہ سے لاہور دیکھنے کی تمنا تھی۔بچپن ہی سے لاہور میں ہمارے لئے خدا جانے کیا کشش تھی کہ ہمیشہ لا ہور جانے کو دل چاہا مگر یہ آرزو بھی پوری نہ ہو سکی مگر جب اس تمنا کے بر آنے کا وقت آیا تو اچانک پوری بھی اس طرح ہوگئی کہ گمان تک نہ ہوسکتا تھا۔ایک دن ڈاکٹر محم عمر صاحب نے