تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 63 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 63

تاریخ احمدیت۔جلد 22 63 سال 1963ء یہاں تک کہ ۳۰ را پریل ۱۹۶۳ ء تک صدر انجمن احمدیہ کی وصولی سترہ لاکھ تک پہنچ گئی جو اس سے پہلے سال کی نسبت دو لاکھ روپے سے بھی زیادہ رقم کی ایزادی تھی۔اس طرح وہی منزل جو چند سال قبل بہت دور اور بظاہر ناممکن الحصول نظر آتی تھی خدا کے فضل کے ساتھ حقیقت نظر آنے لگی۔حضرت مصلح موعود نے ایک بار فرمایا تھا کہ:۔’خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ سلوک ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے فضل سے میری رہنمائی فرماتا ہے بعض دفعہ الفاظ میں وہ مجھ پر وحی نازل کر دیتا ہے اور بعض دفعہ میرے قلب پر وہ اپنا فیصلہ نازل کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک میرے ساتھ اتنی کثرت اور تواتر سے ہوتا ہے کہ میں خود حیران رہ جاتا ہوں کہ میری زبان سے کیا نکل رہا ہے مگر ابھی چند دن نہیں گذرتے کہ جو کچھ میری زبان پر جاری ہوا ہوتا ہے۔وہ واقعات کی صورت میں دنیا میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔قادر خدا کی آسمانی نصرتوں کا یہ ایمان افروز نشان اس تحریک میں بھی ظاہر ہوا۔میاں عبدالحق صاحب رامہ ( ناظر بیت المال) نے پاکستانی احمدیوں کے اخلاص اور غیر معمولی ایثار و قربانی کے اس عظیم الشان مظاہرہ پر ایک خصوصی نوٹ سپر د قلم کیا جس میں بتایا کہ:۔ر قم کے لحاظ سے جماعت لاہور کا اضافہ سب سے زیادہ یعنی سوا لاکھ روپے کے قریب ہے۔اس کے بعد جماعت احمدیہ کراچی کا نمبر آتا ہے جس کا اضافہ ایک لاکھ سے کچھ اوپر ہے۔ترقی کی رفتار کے لحاظ سے زیادہ بڑی جماعتوں میں سے مرکز ربوہ سب سے آگے ہے۔اس جماعت کی چندہ عام و حصہ آمد و چنده جلسہ سالانہ کی حالیہ وصولی ۵۳-۱۹۵۴ء کی وصولی کے مقابلہ میں ساڑھے تین گنا سے بھی اوپر ہے۔اس وصولی میں انجمن اور تحریک جدید وغیرہ کے کارکنوں کا چندہ بھی شامل نہیں اس لحاظ سے یہ ایزادی نہایت ہی قابل قدر ہے۔اس سے کم بڑی جماعتوں میں سے حیدر آباد اول نمبر پر ہے جس کی وصولی چھ گنا کے قریب بڑھ گئی ہے۔درمیانہ جماعتوں میں سے وزیر آباد پیش پیش ہے۔کیونکہ اس جماعت کی وصولی ساڑھے چار گنا سے بھی بڑھ چکی ہے۔زمیندارہ جماعتوں میں سے چک نمبر ۹ پنیار ضلع سرگودھا نے نہایت ہی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔اس جماعت کی وصولی دس گنا سے بھی اوپر نکل گئی ہے۔بہت سی جماعتوں نے ترقی کا شاندار معیار قائم کیا ہے۔116 766