تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 62 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 62

تاریخ احمدیت۔جلد 22 62 سال 1963ء خدام الاحمدیہ کی تربیتی کلاس کیلئے اہم پیغام اس سال خدام کی دسویں مرکزی تربیتی کلاس ۱۹ار اپریل سے ۳ رمئی ۱۹۶۳ء تک جاری رہی۔کلاس کے پہلے روز مغربی پاکستان کی ۲۳ مجالس کے ۱۲ اخدام شریک ہوئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس موقع پر مندرجہ ذیل روح پرور پیغام مرحمت فرمایا :۔" مجھے معلوم ہوا ہے کہ خدام الاحمدیہ کے شعبہ تعلیم کی طرف سے سالانہ تربیتی کلاس عنقریب شروع ہو رہی ہے۔سو میرا احمدی نوجوانوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ وہ دین کا علم سیکھیں اور پھر اس علم کو دلیری مگر حکمت اور موعظہ حسنہ کے رنگ میں اپنے عزیزوں اور دوستوں اور ہمسایوں تک پہنچائیں۔دین کوئی فلسفہ نہیں ہے بلکہ دین کی اصل غرض مومنوں میں نیکی اور قوت عمل پیدا کرنا ہے۔پس خدام الاحمدیہ کو چاہیئے کہ اپنے اندر قوت عمل پیدا کریں اور ایمان کے معاملہ میں ایسی جرات دکھائیں کہ کوئی چیز اُن کے مقابلہ پر نہ ٹھہر سکے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ حکم دیا ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی کوئی منکر بات دیکھو جو دین یا اخلاق یا محبت الہی یا اکرام رسول یا آداب بزرگان کے خلاف ہوتو بڑی جرات کے ساتھ اُس کا مقابلہ کرو۔بے شک آپ لوگوں کو لڑنے بھڑنے سے روکا گیا ہے مگر لڑنا بھڑنا اور چیز ہے لیکن جرات کے ساتھ بدی کا مقابلہ کرنا اور نیکی کو پھیلانا بالکل اور چیز ہے اور یہ بات صاف ایمان کے ذریعہ پیدا ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد - ۱۷ سراپریل ۱۹۶۳ء پاکستانی احمدیوں کی طرف سے مالی قربانی کا عظیم الشان مظاہرہ 114 سید نا حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۵ء کے موقع پر اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ صدر انجمن احمدیہ کا چندہ اور تحریک جدید کا چندہ پچیس پچیس لاکھ تک پہنچ جانا چاہیئے۔اس سے قبل یعنی ۵۵-۱۹۵۴ء میں صدر انجمن احمدیہ کے لازمی چندوں کی وصولی نو لاکھ کے اندر تھی لیکن اس کے بعد جماعت پاکستان نے والہانہ انداز میں جدو جہد شروع کر دی اور غیر معمولی اضافہ شروع ہو گیا۔