تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 722
تاریخ احمدیت۔جلد 22 722 سال 1964ء گہرا اثر لیا۔آپ نے ٹمالے شہر کے مختلف حصوں میں ہفتہ وار تبلیغی جلسوں کا با قاعدہ اہتمام کیا۔یہ جلسے بعض اوقات بارہ بجے شب تک جاری رہتے۔آپ کے ذریعہ جیل خانہ تک احمدیت کا پیغام پہنچنا شروع ہوا۔اکرا ( مشرقی ریجن ) کے انچارج مولوی عبدالحمید صاحب مشرقی ریجن کی جماعتوں کے دورے پر دو مرتبہ تشریف لے گئے۔مشن ہاؤس میں کثیر التعداد افراد حق کی جستجو کے لئے آئے۔جنہیں آپ نے مؤثر رنگ میں احمدیت کا پیغام پہنچایا۔جن اصحاب کو آپ نے لٹریچر دیا ان میں ٹیما کے ڈپٹی کمشنر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آپ کی غیر احمدی علماء اور پادریوں کے گھروں میں تبلیغی گفتگو ہوئی۔مولوی نصیر احمد خان صاحب ۹ دسمبر ۱۹۶۴ء کو غانا پہنچے اور انشانٹی ریجن کا چارج لیا۔جس کے بعد آپ نے پانچ جماعتوں میں تبلیغی جلسے منعقد کئے۔کینیا اس سال مشن کی طرف سے کشتی نوح کے سواحیلی ترجمہ کا تیسرا ایڈیشن ۵ ہزار کی تعداد میں اور کتاب ”اسلام میں بیاہ اور شادی ۲ ہزار کی تعداد میں شائع ہوئی۔ممباسہ میں تہذیب الاسلام سکول کے ڈائر یکٹر اور ممتاز عالم شیخ شریف علوی نے مولوی نورالحق صاحب انور سے ملاقات کے دوران فرمایا کہ:۔ایک طرف تو یہ مسلمان لوگ ہیں جو مختلف قسم کے مشرکانہ عقاید و خیالات اور مشرکانہ افعال و اعمال کے باوجود مسلمان سمجھے جاتے ہیں اور دوسری طرف احمدی ہیں جو دن رات اسلام کی خاطر قربانیوں میں مصروف نماز روزہ کے پابند، خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچا ایمان اور ان کی عزت کی خاطر کچی غیرت رکھنے والے اور دین کی خاطر اپنے نفس و مال کو خرچ کرنے والے ہیں۔وہ باوجودان قابل قدر خدمات کے کا فرو دائرہ اسلام سے خارج کہے جاتے ہیں۔شیخ علوی نے بتایا کہ انہوں نے مکہ اور مدینہ کے دورے کے دوران شیوخ حرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ” آپ لوگ بے شک خدام حرمین ہونے کے باعث لائق صد عزت ہیں لیکن جہاں تک دین اسلام کی خاطر عملی جدو جہد کا تعلق ہے آپ لوگ احمدیوں کی گرد کو بھی نہیں پاسکتے۔انہوں نے تبلیغ اسلام کے لئے ہزاروں روپے خرچ کر کے قرآن کریم کے افریقن زبانوں میں تراجم اور لوکل زبانوں میں نہایت قیمتی اسلامی لٹریچر شائع کیا ہے۔ان کے مبلغین دن رات افریقہ کے صحراؤں اور جنگلوں میں مصروف تبلیغ ہیں۔