تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 58 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 58

تاریخ احمدیت۔جلد 22 58 سال 1963ء حکومت مغربی پاکستان کا مبارک اور دانشمندانہ فیصلہ اور اس کا شکریہ اس قدر ملکی اور غیر ملکی احتجاج کو دیکھ کر آخر کار گورنمنٹ کو پسپا ہونا پڑا۔چنانچہ حکومت مغربی پاکستان نے ۳۰ مئی ۱۹۶۳ء کو ضبطی کا حکم واپس لے لیا اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی انقلاب انگیز کتاب کی اشاعت بحال کر دی۔جس سے جماعت احمد یہ اور دنیا بھر کے اسلامی حلقوں کو انتہائی خوشی ہوئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس فیصلہ کو حق و انصاف کی فتح سے تعبیر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے تقریر و تحریر کے ذریعہ اسلام کی جو عدیم المثال خدمات سرانجام دی ہیں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں اور دوست اور دشمن اپنے اور بیگانے اُن کا لو ہامان چھکے اور آپ کو اسلام کا ایک فتح نصیب جرنیل قرار دے چکے ہیں۔پس یہ کتنے دکھ اور افسوس کی بات تھی کہ وقت کی مسلمان حکومت نے جلد بازی اور کوتاہ اندیشی سے آپ کی ایک ایسی کتاب کو ضبط کرنے کا فیصلہ کیا جو اسلام کی تائید اور ایک نادان مسیحی کے اعتراضوں کے جواب میں پینسٹھ سال پہلے لکھی گئی تھی اور جسے خود اُس وقت کی عیسائی حکومت اپنے پچاس سالہ دور میں وسعت قلب کے ساتھ برداشت کرتی چلی آئی تھی۔بہر حال اگر صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آ جائے تو اُسے بھولا ہوا نہیں سمجھنا چاہیئے اور ہم حکومت کے شکر گذار ہیں کہ اُس نے اپنے اس ناواجب اور غیر منصفانہ فیصلے کو جلدی منسوخ کر کے ہمارے زخمی دلوں پر مرہم کا پھا یہ رکھا ہے۔دعا ہے کہ خدا اُسے آئندہ ایسی غلطی سے محفوظ رکھے آمین۔دراصل اگر حکومت غور کرے تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا وجود حکومت کے لئے ایک مقدس تعویذ ہے۔کاش وہ سمجھے !!! (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے ایک بیان میں حمد باری تعالیٰ کے بعد حکومت کا شکریہ ادا کیا۔جس نے دنیا کے جھوٹے وقار کی پروانہ کرتے ہوئے اعلیٰ انسانی اقدار اور اسلام دوستی پر اپنی دنیاوی پر سٹیج (prestige) کو خوشی سے قربان کر کے صحیح اسلامی روح کا مظاہرہ کیا۔نیز خدا تعالیٰ کے حضور اپنے عملی شکریہ کا ایک طریق یہ بیان فرمایا کہ۔”ہم ہر عیسائی تک سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب پہنچا ئیں اور انہیں عیسائیت کی روح جھلنے والی تپش سے نکل کر اسلام کے ٹھنڈے سایہ تلے آنے کی دعوت دیں تا وہ دل جو اسلام