تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 686 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 686

تاریخ احمدیت۔جلد 22 686 سال 1964ء کرتے رہے۔حلقہ لالکڑتی (راولپنڈی) کے صدر بھی رہے۔آپ نہایت مخلص اور فدائی احمدی تھے۔جماعتی کاموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔آپ کو موصی ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔اولاد : آپ نے تین شادیاں کیں۔زوجہ اول محترمہ بھاگ بھری صاحبہ سے ایک بیٹا مکرم ناصر احمد صاحب اور دو بیٹیاں محترمہ حبیب بیگم صاحبہ اور محترمہ نسیم بیگم صاحبہ پیدا ہوئیں۔زوجه دوم محترمہ فضل نور صاحبہ سے ایک بیٹی محترمہ قدسیہ بیگم صاحبہ تھیں اور زوجہ سوم محترمہ مقبول خانم صاحبہ سے کوئی اولاد نہ تھی۔(۱۴) قریشی افضال احمد صاحب بھاگلپوری (وفات: ۱۰ نومبر ۱۹۶۴ء) خلافت ثانیہ کے آغاز میں بیعت کی۔۱۹۲۴ء سے ملکانہ کے علاقہ میں بطور مبلغ تبلیغی جہاد میں سرگرم عمل رہے اور نہ صرف اپنی ذات کی قربانی دی بلکہ اپنی اولاد کے مستقبل کو بھی قربان کر دیا۔وجہ یہ کہ میدان جہاد میں ہونے کے باعث آپ اپنے کسی بچہ کو اعلیٰ دینی ودنیوی تعلیم نہ دلوا سکے۔اسی دور کا یہ نادر اور یادگار واقعہ ہے کہ آپ کی قیادت میں بارہ احمدی ملکانوں پر مشتمل ایک وفد پا پیادہ ساندہن سے قادیان کے لئے روانہ ہوا جو ٹھیک جلسہ سالانہ ۱۹۳۳ء کے موقعہ پر بخیر وخوبی قادیان پہنچا۔یہ قافلہ خاص کیفیت رکھتا تھا۔اہل قافلہ کے پاس ایک بڑا کپڑا دو بانسوں سے بندھا ہوا تھا جس پر یہ عبارتیں جلی حروف سے رقم تھیں احمدیت زندہ باد۔اسلام زندہ باد۔مرزا غلام احمد کی ہے۔ہماری فتح ہمارا غلبہ۔میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔یہ نظارہ دیکھا کثر لوگ دریافت کرتے کہ کدھر جارہے ہیں اس پر سالار قافلہ شیریں زبان اور مؤثر الفاظ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کا تعارف کرواتے۔آپ نے کئی سال تک بہار میں بھی فریضہ تبلیغ ادا کیا۔(۱۵) منشی احمد دین صاحب سیکرٹری مال وصدر جماعت احمد یہ کرالی ضلع گجرات 132 (وفات:۱۲ نومبر ۱۹۶۴ء) بیعت کرنے پر آپ کو شدید تکالیف دی گئیں مگر آپ کے پائے ثبات میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔حاضر جوابی میں آپ کو کمال حاصل تھا اور مرکزی تحریکات پر لبیک کہنا آپ کا 133 شعار۔صاحب الہام و کشوف بزرگ تھے۔(۱۶) پاسوری با بنگو را صاحب لوکل مبلغ سیرالیون (وفات: نومبر ۱۹۶۴ء) پاسوری بانگو را (Pasuri Ba Bangura) صاحب سیرالیون کے ابتدائی مخلص احمدیوں