تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 687
تاریخ احمدیت۔جلد 22 687 سال 1964ء میں سے تھے۔آپ نے محترم الحاج مولانا نذیر احمد علی صاحب کے زمانہ میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔آپ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے۔صرف قرآن کریم کا علم رکھتے تھے۔آپ کے اندر دعوت الی اللہ کا قابل رشک جوش تھا۔آپ نے ابتداء میں بہت قلیل معاوضے پر لوکل معلم کے طور پر خدمت شروع کی۔سیرالیون کے طول و عرض میں پہنچ کر پیغام حق کی دعوت دی۔آپ سیرالیون کے مختلف قبائل کی زبانیں جانتے تھے اس لئے آسانی کے ساتھ پیغام حق پہنچاتے تھے۔محترم مولانا محمد صدیق صاحب شاہد گورداسپوری سابق مربی سلسلہ سیرالیون نے مرحوم بنگو را صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھا کہ ”خاکسار جب ۵۳ء میں پہلی بار سیرالیون گیا تو آپ اکثر میرے ساتھ دوروں پر جاتے اور ترجمانی کے فرائض ادا کرتے۔عموماً ہر گاؤں میں شام کے وقت پبلک اجلاس ہوتا جس میں آپ ترجمانی کے علاوہ خود بھی تقریر کرتے اور پھر رات کے پچھلے حصہ میں اٹھ کھڑے ہوتے اور گاؤں میں چکر لگاتے اور لوگوں کو مہدی علیہ السلام کے ظہور کی خبر دیتے اور دعوت حق ان تک پہنچاتے۔مجھے ان کے چند فقرات جو انہوں نے اپنی ایک تقریر میں بیان کئے ابھی تک نہیں بھولتے۔لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا :۔دیکھو میں احمدیت کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت ہوں۔میرے اندر احمدیت نے ایک نہایت ہی نمایاں تغیر کیا ہے۔احمدیت قبول کرنے سے قبل میں ہر قسم کی برائیوں کا مرتکب ہوتا تھا۔اور لوگوں کے ساتھ مقدمات میں عدالتوں میں بھی جانا پڑتا تھا جس سے روپیہ بھی ضائع ہوتا تھا اور عزت بھی برباد ہوتی تھی۔مگر اب خدا تعالیٰ نے احمدیت کو قبول کرنے کی وجہ سے مجھ پر اتنا احسان کیا ہے کہ میں 134 66 ان تمام برائیوں کو ترک کر چکا ہوں اور نہایت ہی چین اور سکون کی زندگی بسر کر رہا ہوں۔(۱۷) سیٹھ محمد عبد اللطیف صاحب یادگیری ( وفات ۲ / دسمبر ۱۹۶۴ء) فرزند اکبر محترم سیٹھ عبدالحئی صاحب یاد گیری۔آپ اپنے دادا حضرت شیخ حسن اور اپنے والد سیٹھ عبدالحئی صاحب کی تمام دینی اور خاندانی روایات کے علمبر دار تھے اور ان کو پوری شان سے برقرار رکھنے 135 میں عمر بھر کوشاں رہے۔(۱۸) چوہدری غلام احمد صاحب ایڈووکیٹ پاکپتن ( وفات ۱۵ر دسمبر ۱۹۶۴ء) اگر چه ۱۹۰۴ء کے بعد متعدد بار قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبارک مجالس میں