تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 684 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 684

تاریخ احمدیت۔جلد 22 684 سال 1964ء دار السلام اور ٹو را انجمن اسلامیہ کی بنیاد آپ نے ہی ڈالی تھی۔اپنوں اور بیگانوں میں یکساں مقبول تھے۔سواحیلی لٹریچر کی اشاعت اور مشرقی افریقہ کی مساجد کی تعمیر میں ان کی مالی قربانیاں فراموش نہیں کی جاسکتیں۔123 (۸) دفعدارمحمد عبداللہ صاحب گجراتی در رویش قادیان ( وفات ۳۰ را پریل ۱۹۶۴ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب کرم دین بھیں کے مقدمہ کے سلسلہ میں ۱۹۰۴ء میں جہلم تشریف لے گئے تھے اس وقت آپ کھاریاں سکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور آپ کی عمر ۶ سال تھی۔حضور کی آمد کی خبر پا کر آپ بھی حضور کی زیارت کے لئے گئے۔اور حضور کو دیکھ لینے سے احمدیت کے بارہ میں جتنے اعتراضات و شبہات باقی تھے سب رفع ہو گئے۔لیکن بعض شر پسند عناصر کے دباؤ کی وجہ سے اس وقت بیعت نہ کر سکے۔جس کا آپ کو تمام عمر افسوس رہا۔آپ نے حضرت خلیفہ اول کے عہد خلافت میں بیعت کی۔آپ کے والد محترم حضرت محمد ابراہیم صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔۲۷ سالہ فوجی خدمت کے دوران سات میڈل اور بیسیوں اعزاز حاصل کئے۔تحریک شدھی کے خلاف حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی سرکردگی میں دو ماہ تبلیغی جہاد کیا۔زمانہ درویشی میں سیکرٹری مال اور مرکزی لائبریری کے انچارج کی حیثیت سے بڑی محنت اور تندہی سے مصروف عمل رہے۔125 124 (۹) خلیفہ علیم الدین صاحب ( وفات : ۱۶ار اپریل ۱۹۶۴ء ) حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے فرزند اکبر اور انگلستان کے پہلے واقف زندگی بشیر احمد صاحب آرچرڈ کے خسر تھے۔(۱۰) او۔کے۔سید علی صاحب آف سیلون (وفات: ۱۹ جون ۱۹۶۴ء) سید علی صاحب نے جوانی میں قادیان جا کر دینی تعلیم حاصل کی۔بعد تعلیم کچھ عرصہ فوج میں بھی ملازمت کی اور کچھ عرصہ وقف تجارت میں خدمات بجالائے۔کولمبو مشن میں آپ چندہ جات کی وصولی میں سیکرٹری ہال کی بہت مدد کرتے تھے۔جماعت کے مختلف عہدوں پر خدمات سرانجام دیں۔حضرت خلیفہ ایسے کی ہر تحریک پر لبیک کہنے میں صف اول میں شامل تھے اور تحریک جدید اور وقف جدید میں با قاعدگی سے شامل ہوتے۔بچوں کو قرآن کریم ، دینیات، اردو خاص دلچسپی و محنت