تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 679
تاریخ احمدیت۔جلد 22 679 سال 1964ء صاحب کو میرے پروگرام کے متعلق پتہ لگا تو مجھے لکھا کہ آپ میرے ملک تشریف لا رہے ہیں۔اس لئے آپ دار السلام میں ٹھہرنے کا پروگرام مختصر کریں اور ٹبو را تشریف لائیں۔عمری صاحب نے ان دنوں مغربی صوبہ کے کمشنر کو ایک ضروری اجلاس کے لئے بلایا ہوا تھا۔اور عمری صاحب بھی وہیں موجود تھے۔اور آپ کی خواہش کے مطابق شورا نہ جا سکا۔تاہم میں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا اور ان کی طالبعلمی کی حالت کو دیکھ کر اور بعد کی حالت کا موازنہ کیا تو میں نے محسوس کیا کہ عمری صاحب افریقہ کے لئے ایک قیمتی وجود ہیں۔اور آپ سے ملنے والوں کو اس بات کا علم تھا کہ آپ افریقہ کے چمکدار اور پر امیدستاروں میں سے ہیں۔سیدنا حضرت خلیفہ امسح الثالث کا آپ کے بارے میں اظہار خوشنودی سید نا حضرت خلیفتہ المسح الثالث نے ۲۱ دسمبر ۱۹۶۵ء کوفرمایا۔غیر ممالک میں ہماری جماعتیں بڑی ہی مخلص ہیں ان کے ممبران صرف نام کے احمدی یا مسلم ہی نہیں بلکہ وہ توحید باری پر پختگی سے قائم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی محبت میں سرشار ہیں۔ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن سے خدا تعالیٰ ہمکلام ہوتا ہے۔بہت سے ایسے ہیں جنہیں بچی خوا میں آتی ہیں اور ہر رنگ میں وہ روحانی نعمتوں سے مالا مال ہیں۔حضور کے وصال پر ان احباب کی طرف سے جو خطوط مجھے موصول ہوئے ہیں ان سے ان کے اخلاص کا علم ہوتا ہے۔ان خدا رسیدہ لوگوں میں سے ایک کا خواب میں بطور نمونہ سناتا ہوں تا وہ دوستوں کے از دیا دایمان کا موجب ہو۔وہ خدا رسیدہ اور دین اسلام کا شیدائی ایک حبشی تھا۔جس کا رنگ سیاہ اور ہونٹ لٹکے ہوئے تھے۔دنیا کی مہذب قو میں اسے حقارت سے دیکھتی تھیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل خدا تعالیٰ کی نظر کرم اس پر پڑی اور وہ اس سے ہمکلام ہوا۔یہ ہیں ہمارے دوست عمری عبیدی اور ان کا انتخاب میں نے اس لئے بھی کیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ ہوا جوانی کی عمر میں فوت ہو گئے ہیں۔یہ دوست احمدیت کے شیدائی اور فدائی تھے۔ربوہ میں بھی کچھ عرصہ رہ کر گئے تھے۔وہ خواب بین انسان تھے انہیں بڑی واضح