تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 678
تاریخ احمدیت۔جلد 22 678 سال 1964ء تو تمام ممبران نے متفقہ طور پر ملکی اور غیر ملکی لوگوں کو برابر حقوق دینے کا فیصلہ کیا۔اس معرکۃ الآراء تقریر کو سن کر تمام غیر ملکی از حد ممنون اور مطمئن ہوئے اور بعض نے کہا یہ جماعت احمدیہ کی تربیت کا اثر ہے ورنہ ہمارے حقوق اس ملک میں محفوظ نہیں تھے۔10 دیگر بزرگان سلسلہ کی حقیقت افروز آراء اس المناک جماعتی سانحہ پر پوری دنیائے احمد بیت میں بہت گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔حضرت سیدہ ام امتہ المتین صاحبہ نے فرمایا ”عمری صاحب کی وفات سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کا کوئی فرد انتقال کر گیا ہو۔مولا نا ابو العطاء صاحب مدیر ” الفرقان“ نے آپ کا ذکر خاص کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔عزیزم شیخ عمری عبیدی سلسلہ احمدیہ کے ایک درخشندہ گوہر تھے۔۱۹۵۴ء سے ۱۹۵۶ء تک وہ جامعة المبشرين ربوہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ان دنوں میں جامعتہ المبشرين ربوہ کا پرنسپل تھا اور جامعة المبشرین علیحدہ ادارہ تھا۔شیخ عمری عبیدی ایک نہایت دیندار، قابل، زیرک اور مخلص نو جوان تھے۔بہت محنتی اور اساتذہ سے خاص تعلق رکھنے والے تھے۔انہوں نے جامعتہ المبشرین میں بہت نیک اثر چھوڑ ا تھا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ایک بار جامعہ احمد یہ ربوہ میں تشریف لائے۔تو آپ سے مولوی غلام باری صاحب سیف پروفیسر جامعہ احمدیہ نے سوال کیا۔غیر ممالک میں آپ کو کس احمدی نے متاثر کیا۔تو آپ نے فرمایا عمری عبیدی صاحب نے۔حضرت چوہدری صاحب نے ۳۰ دسمبر ۱۹۶۶ء کو سالانہ کا نفرنس افریقن سٹوڈنٹس یونین کے اجلاس منعقدہ جمخانہ لاہور میں اپنی صدارتی تقریر کے دوران فرمایا:۔’افریقہ کے قابل افراد میں ایک فرد وہ بھی تھا جو اس وقت ہم میں موجود نہیں۔وہ ایک مہلک نامعلوم مرض میں مبتلا رہنے کے بعد پچھلے دنوں جرمنی میں وفات پا گئے۔آپ تنزانیہ حکومت کے وزیر تھے اور نہایت قابل شخص تھے۔میں آپ کو اس وقت سے جانتا ہوں جبکہ آپ اعلی دینی تعلیم کے حصول کے لئے ربوہ تشریف لائے تھے۔اور آٹھ نو سال کے بعد مجھے اس حالت میں ملے کہ میں اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کا صدر تھا اور آپ تنزانیہ حکومت کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔جب میں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کی حیثیت سے افریقہ کا دورہ کیا تو تنزانیہ جانے کا بھی موقعہ ملا۔عمری