تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 54
تاریخ احمدیت۔جلد 22 فیصلہ کے اعلان میں ناروا تاخیر 54 سال 1963ء اخبار الفضل نے ۲۹ مئی ۱۹۶۳ء کی اشاعت میں لکھا کہ: ایک ماہ سے زائد کا طویل اور صبر آزما عرصہ گزرتا ہے کہ حکومت مغربی پاکستان نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی کتاب ” سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ جو تمام تر اسلام کی صداقت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جلالت شان کے نہایت درجہ مؤثر اظہار پر مشتمل ہے اور جو گزشتہ ۶۶ سال سے برابر شائع ہوتی چلی آ رہی ہے یکا یک ضبط کر لی۔اس ناروا اقدام پر دنیا بھر کے احمدیوں میں انتہائی بے چینی و اضطراب کی لہر کا دوڑنا ایک قدرتی اور طبعی امر تھا۔چنا نچہ انہوں نے اس یقین اور اعتماد کے پیش نظر کہ اگر اس ناروا اقدام کے خلاف اسلام اثرات و مضمرات حکومت کے گوش گزار کئے جائیں تو وہ ضرور اپنا فیصلہ واپس لے لے گی بڑے ہی دردمند دل کے ساتھ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا اور خود مقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی مقدس تحریرات میں سے ایک تحریر کے ضبط کئے جانے سے انہیں جو قلبی اذیت پہنچی تھی اس سے حکومت کو آگاہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔جماعت احمدیہ پر ہی کیا منحصر ہے وہ غیر از جماعت دردمند دل رکھنے والے مسلمان بھی جنہیں اس کتاب میں مندرج صداقت اسلام کے دلائل قاطعہ اور اُن کی اثر انگیزی کا علم تھا تڑپ اٹھے اور وہ بھی اس کتاب کی ضبطی کے خلاف احتجاج کرنے میں پیچھے نہیں رہے۔حتی کہ بعض مقتدر عیسائیوں نے بھی جن کی دل آزاری کی آڑ میں ضبطی کا حکم نافذ کیا گیا تھا حکومت کے اس اقدام کو بہت قابل افسوس گردانا اور بر ملا اس خیال کا اظہار کیا کہ ۶۶ سال پرانی کتاب کو جو مسلسل شائع ہوتی چلی آ رہی ہے اور مسیحی حکومت اسے پچاس سال تک فراخ دلی سے برداشت کرتی رہی ہے۔اب آ کر ۱۹۶۳ء میں ضبط کرنا اپنے اندر کوئی جواز اور معقولیت نہیں رکھتا۔ہم حیران ہیں کہ اس ہمہ گیر اور انتہائی طور پر درد مند احتجاج کے باوجود جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے حکومت کی طرف سے ابھی تک باضابطہ طور پر اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔اس سلسلہ میں ہم یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ کسی ناروا اقدام کے خلاف احتجاج وہیں کیا جاتا ہے جہاں یہ یقین ہو کہ حکام اصل حقائق اور ان کے اپنے اقدام کے اثرات و مضمرات سے پورے طور پر آگاہ ہو جانے پر ضرور انصاف اور داد رسی کریں گے۔کیونکہ جسے دادرسی کا یقین ہی نہ ہو وہ کبھی اپنا دکھ درد بیان کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتا۔یہ دردمند احتجاج خود حکومت پر اعتماد اور اپنائیت کے بے پناہ جذبے پر دلالت