تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 53
تاریخ احمدیت۔جلد 22 53 حکومت کو چاہیئے کہ وہ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرے“۔۹۔چار ہفتہ وار اخبارات 99 سال 1963ء سرگودھا کے چار ہفتہ وار اخبارات کے ایڈیٹروں کی طرف سے اخبار الفضل (۲۸ مئی ۱۹۶۳ء) میں درج ذیل مشترکہ بیان شائع ہوا۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب کی ضبطی سے متعلق حالیہ حکم سے بجاطور پر جماعت احمدیہ میں بے چینی اور اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ہزار ہا تاروں اور خطوط کے ذریعہ احمدی اور غیر احمدی حضرات کی طرف سے حکومت مغربی پاکستان کے اس حکم کو منسوخ کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ہم اس مطالبہ کو جائز اور معین منصفانہ سمجھتے ہوئے حکومتِ مغربی پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کتاب کی ضبطی کے غیر دانشمندانہ حکم کوفور اوا پس لیں تا کہ لاکھوں ملکی اور غیر ملکی جس بے اطمینانی میں مبتلا کئے گئے ہیں ان کو سکون میسر ہو سکے۔“ (۱) عمر دراز خاں ایڈیٹر پیغام قائد سرگودھا۔(۲) احمد بخش قریشی ایڈیٹر ” عقاب سرگودھا۔(۳) عبدالرشید اشک ایڈیٹر شعلہ سرگودھا۔(۴) تاجدار دہلوی ایڈیٹر ”سلطان“ سرگودھا۔پاکستان کے مسیحی لیڈر کا بیان 66 ملت اسلامیہ کے اس متفقہ احتجاج کو دیکھ کر پاکستان کے مشہور مسیحی لیڈر مسٹر جوشوا فضل دین صاحب نے ایک پریس بیان دیا جس میں کہا کہ :۔میں اپنے پاکستانی عیسائیوں کو بھی نصیحت کروں گا کہ وہ اپنے مخالف لٹریچر کے بارہ میں حد سے زیادہ عیب چینی اور تنقید سے اجتناب کریں۔پچھلے دنوں مجھے یہ پڑھ کر افسوس ہوا کہ کتا بچہ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ جو حضرت مرزا غلام احمد نے ۱۸۹۷ء میں لکھا تھا۔۱۹۶۳ء میں ضبط کر لیا گیا ہے بظاہر ایک ایسا کتابچہ جو برطانوی راج میں پچاس سال تک اور پھر تقسیم برصغیر کے بعد ۱۵ سال تک چرچ کے لئے کسی تکلیف یا نقصان کا موجب نہ ہوا۔وہ ایک ایسی دستاویز قرار نہیں پاسکتا جس پر کوئی شخص برہمی کا اظہار کرے۔اگر عیسائی ہوا کے ہر جھونکے پر گھبرا اٹھنے کی بجائے جو کچھ ان کے متعلق کہا جاتا ہے اسے نظر انداز کریں گے تو انسانی تعلقات کے نقطہ نگاہ سے یہ امران کے لئے زیادہ سے زیادہ فائدہ مند ہوگا اور وہ نفع میں رہیں گے۔100