تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 52
تاریخ احمدیت۔جلد 22 52 سال 1963ء ہو کر بھی اس کا ایک ایڈیشن چھپ چکا ہے۔اس کتاب میں بظاہر کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے ایک فرقے کی دل آزاری سے تعبیر کیا جاسکے۔بلکہ ایک عیسائی نے جو کچھ پوچھا ہے اس کا معقول مدلل جواب خودا نہی کی کتابوں اور قدیم وجدید عہد ناموں کے حوالوں کے دیا گیا ہے۔مقامِ حیرت ہے کہ اس کتاب پر ہمارے عیسائی بھائیوں کو عیسائی حکومت کے دور اقتدار میں مسلسل پچاس سال تک اعتراض کرنے اور انگلی اٹھانے کی توفیق نہ ہوئی۔قیام پاکستان کے بعد بھی پندرہ سال تک ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم و الا مضمون رہا۔اب پورے سڑسٹھ برس کے بعد اس میں دل آزاری کا پہلو نظر آیا۔ہمارے خیال میں حکومت مغربی پاکستان کو اس کتاب کے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیئے چونکہ اس اقدام سے ہماری تمام تبلیغی جماعتوں کو بڑے تکلیف دہ حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔کیونکہ اس ایک مثال کو سامنے رکھ کر ہمارے عیسائی دوست ان گنت ایسی کتابوں پر انگلی دھر دیں گے۔جن میں عیسائیت کے خلاف ذرا سا بھی موادل سکے گا۔جہاں تک "سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ نامی رسالے کا تعلق ہے۔اس میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے دل آزاری کا پہلو نکلتا ہو۔بلکہ انہیں کے الفاظ سے اور ان کی کتابوں سے جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اس لئے آزادی مذہب کے نام پر ہم حکومت مغربی پاکستان سے بہ ادب گذارش کرتے ہیں کہ وہ اپنا حکم واپس لے کر حق پسندی کا ثبوت دے“۔د و۔ہفت روزہ ” تنظیم اہلحدیث (لاہور) 98۔اس ہفت روزہ نے بہت واشگاف الفاظ میں حسب ذیل نوٹ سپر داشاعت کیا۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب نامی کتاب اس ملک میں گزشتہ پچھتر سال سے بار بار چھپتی اور بکتی چلی آ رہی تھی۔حامی دین مسیح حکومت برطانیہ کے دور میں اس کتاب سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا اور نہ اسے عیسائیوں کی دل آزاری کا باعث سمجھا گیا اور نہ ہی اس پر منافرت پھیلانے کا کوئی الزام عائد ہو سکا لیکن اب مسلمانوں کی اپنی حکومت ہے، اب پاکستان میں بڑھتے ہوئے عیسائی اثرات نے اس کتاب کو ضبط کرا دیا ہے۔من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم که با من هرچه کرد آں آشنا کرد