تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 647
تاریخ احمدیت۔جلد 22 647 سال 1964ء لو ۱۹۱۴ ء میں آپ جنگ عظیم اوّل میں فوج کے ساتھ مختلف محاذوں پر گئے۔۔۔۔جنگ ختم ہونے کے بعد واپس آکر قدرت ثانیہ کے دوسرے مظہر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی دستی بیعت کی۔۱۹۳۹ء میں قادیان ہجرت کرنے تک لکھنو میں رہے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے عطا کئے۔پلوٹھی کا بیٹا اور ایک بیٹی عین عنفوان شباب میں داغ مفارقت دے گئے۔ایک بچی کم سنی میں فوت ہوئی اور دو بیٹیاں جوانی کی عمر میں ان کی زندگی میں انتقال کر گئیں۔والد صاحب نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور لکھنو میں دواخانہ کھول لیا جس میں ایک کمرہ دعوت الی اللہ کے لئے وقف تھا اس میں دینی کتب کی لائبریری تھی۔دروازہ پر بڑا سا بورڈ لگا تھا۔آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے ۱۹۳۹ء میں ہجرت کر کے مستقل تقسیم ملک تک قادیان ہی میں رہے۔کچھ عرصہ نور ہسپتال میں اعزازی طور پر خدمت انجام دی اور فسادات میں خواتین بورڈنگ ہاؤس میں مقیم ہو گئیں تو ان کی دیکھ بھال اور نگرانی کی ڈیوٹی دیتے رہے۔اجازت ملنے پر آخری قافلہ میں براستہ لاہور بہاولپور چلے گئے۔ہماری والدہ صاحبہ مئی ۱۹۴۶ء میں وفات پا کر بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔والد صاحب ۱۹۶۴ء میں اپنے بیٹے مکرم محمود الحسن صاحب کے پاس ڈھا کہ گئے اور دوروز نمونیہ سے بیمار رہ کر مئی ۱۹۶۴ء میں وفات پائی۔( ریکارڈ بہشتی مقبرہ ربوہ کے مطابق آپ کی وفات ۲ مئی ۱۹۶۴ء کو بعمر ۸۲ سال ہوئی۔ناقل ) ہوئی۔بذریعہ ہوائی جہاز آپ کا بیٹا آپ کی نعش کو ربوہ لے کر آیا اور یہاں بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین 87 766 ملک عمر علی صاحب کھوکھر رئیس ملتان بیعت: ۱۹۳۵ ء وفات: ۱۰مئی ۱۹۶۴ء ملک صاحب مرحوم ملتان کے بہت متمول زمیندار اور رئیس خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔۱۹۳۵ء میں عین جوانی کے عالم میں سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔خدمت سلسلہ کا خاص جذبہ رکھنے والے بہت پُر جوش اور فدائی احمدی تھے۔آپ کو حضرت سید میر محمد الحق صاحب کی دامادی کا شرف حاصل تھا۔۱۹۵۰ء میں کچھ عرصہ تک تحریک جدید میں بطور وکیل التبشیر خدمات سرانجام دیں۔کئی سال تک امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع ملتان کے عہدے پر فائز رہے۔۱۹۶۴ء کی مجلس مشاورت کے بعد