تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 648 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 648

تاریخ احمدیت۔جلد 22 648 سال 1964ء نگران بورڈ کی رکنیت کا اعزاز بھی آپ کو حاصل ہوا۔آپ ایک بلند پایہ علمی شخصیت تھے اور آپ کی ذاتی اور وسیع لائبریری قدیم وجدید علوم کا خزینہ تھی جو آپ کی وفات کے بعد خلافت لائبریری اور لائبریری جامعہ احمد یہ ربوہ میں منتقل کر دی گئی۔آپ کی وفات ۱۰ رمئی ۱۹۶۴ء کو ہوئی۔اور ا امئی کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔اولاد: آپ کی حرم اول محترمہ ممتاز الہی صاحبہ سے مندرجہ ذیل اولا د ہوئی: مکرمہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ زوجہ مکرم قاضی منصور احمد صاحب آپ کی حرم ثانی محترمہ سیدہ سیدہ بیگم صاحبہ بنت حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب سے مندرجہ ذیل اولا د ہوئی: مکرم ملک فاروق احمد کھوکھر صاحب ، مکرم ملک زبیر احمد کھوکھر صاحب ،مکرم ملک خالد احمد زفر کھوکھر صاحب ( واقف زندگی) محتر مہ امتہ المنعم صاحبہ محترمہ امتہ السلام صاحبہ زوجہ میاں رفیق احمد گوندل صاحب محتر مہ امتہ المومن صاحبه زوجہ نواب مودود احمد خان صاحب امیر ضلع کراچی ، محتر مہ امۃ الشکور صاحبہ آپ کی حرم ثالث محتر مہ مریم بیگم صاحبہ سے مندرجہ ذیل اولا د ہوئی: مکرم طارق علی کھوکھر صاحب، محترمہ طاہرہ صاحبہ زوجہ مکرم فاروق احمد خاں صاحب ڈاکٹر سردار علی صاحب ایم بی بی ایس ولادت : ۱۹۰۰ء۔بیعت: پیدائشی احمدی وفات : ۵ جون ۱۹۶۴ء آپ حضرت شیخ عبدالغنی صاحب مرحوم آف بٹالہ بانگر کے سب سے بڑے فرزند تھے۔ریٹائرڈ ہونے سے قبل آپ گلگت میں میڈیکل آفیسر تھے۔۱۹۵۶ء میں پینشن یاب ہونے کے بعد آپ نے ربوہ میں سکونت اختیار کی اور پھر وفات تک یہیں مقیم رہے۔نہایت شریف النفس ، بہت نیک مخلص اور فدائی احمدی تھے۔خدمت خلق کا جذ بہ آپ میں بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔اولاد (۱) ڈاکٹر بشارت احمد صاحب (۲) شیخ ظفر احمد صاحب 90 (۳) رشید احمد صاحب ( پی۔آئی۔ڈی۔سی۔میں انجینئر ) (۴) محمود احمد صاحب (۵) شیخ خلیل احمد صاحب (1) شیخ سعید احمد صاحب