تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 639
تاریخ احمدیت۔جلد 22 اخلاق و شمائل 639 سال 1964ء جناب ملک عزیز احمد صاحب بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی وکیل و سابق امیر جماعت احمد یہ ڈیرہ غازی خان تحریر فرماتے ہیں:۔حضرت مولوی محمد عثمان صاحب ضلع ڈیرہ غازی خان کی احمدی جماعتوں کے ایک درخشندہ ستارے تھے۔۔۔آپ ابھی ہمیں بائیس سال کے تھے کہ اپنی فطرتی سعادت اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی ماموریت کے خلاف ہر طرف ایک طوفانِ مخالفت بر پا تھا اور نو احمدی احباب پر زمین باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہو رہی تھی مگر آپ کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی۔یہ ۱۹۰۲ء (سہو ہے ۱۹۰۱ء چاہیئے ) کے قریب کا زمانہ تھا جبکہ پرانے ڈیرہ غازی خان میں جماعت احمدیہ کی بنیاد پڑ چکی تھی اس وقت جماعت مقامی کے سر براہ مکرم مولوی عزیز بخش صاحب تھے جو ڈ پٹی کمشنر صاحب کے دفتر میں کلیدی عہدہ پر فائز تھے۔۱۹۱۰-۱۱ء میں موجودہ ڈیرہ غازی خان کی بنیاد پڑی اور احباب کی کوششوں سے شہر کے عین وسط میں حکومت نے ایک کنال اراضی کا سفید قطعہ برائے تعمیر مسجد جماعت کو دے دیا۔اپریل ۱۹۱۴ء میں حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول وفات پاگئے جس پر اختلاف سلسلہ زیادہ نمایاں ہو گیا۔مولوی عزیز بخش صاحب جو مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت غیر مبائعین لاہور کے بڑے بھائی تھے وہ مقامی جماعت کے افراد کو قادیان سے الگ کر کے مولوی محمد علی صاحب کی طرف لانا چاہتے تھے مگر احباب جماعت نے ان کی ان باتوں کو کوئی اہمیت نہ دی۔اس موقعہ پر مولوی محمد عثمان صاحب نے نہایت جرأت مندانہ قدم اٹھایا اور غیر مبہم الفاظ میں حضرت مصلح موعود کی خلافت سے وابستگی کا اعلان کر دیا۔اس طرح جماعت ایک بہت بڑے فتنہ سے بچ نکلی۔قرآن مجید سے عشق قرآن کریم سے آپ کو بے حد محبت تھی۔زندگی کے آخری سالوں تک صرف ماہ رمضان میں پانچ چھ دفعہ قرآن شریف ختم کرتے تھے اور سارا سال تو بس ان کا محبوب کلام ہی یہی ہوتا تھا۔آپ نے اپنے صاحبزادہ حافظ محمد عمر صاحب کو اپنی نگرانی میں قرآن مجید حفظ کرایا۔مولوی صاحب کے اس کارِ خیر سے جماعت کو ایک اچھا حافظ قرآن مل گیا۔