تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 638 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 638

تاریخ احمدیت۔جلد 22 638 سال 1964ء (۳) خواجہ غلام زکریا صاحب و صاحبزادہ میاں موسیٰ صاحب گدی نشین تو نسوی (۴) سردار غلام محمد صاحب تمن دار شادن لنڈ وغیرہ تحریک پاکستان کے دوران آپ نے جماعت احمدیہ کی ہدایت پر مسلم لیگ کی پُر جوش حمایت کی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔یہاں (ڈیرہ غازی خان۔ناقل ) مسلم لیگ کے امیدوار عطا محمد بزدار جو معمولی حیثیت کا وکیل تھا کا مقابلہ قیصرانی تمندار کے ایک آدمی سے جس کا نام امیر محمد خان ہے جو دنیاوی لالچ میں آکر خواجہ نظام الدین تو نسوی کی انگیخت پر احمدیت سے خارج ہو چکا تھا جو ذی اثر تھا نظام الدین کا بھی اثر تھا اور خضر حیات کی حکومت اس کی پشت پر تھی مگر وہ نا کام ہوا۔اس میں لوگوں نے خضر حیات اور خواجہ نظام الدین کی بڑی بے عزتی کی۔میں نے اس معاملہ میں سلسلہ کی ہدایات کا احترام کرتے ہوئے اچھا حصہ لیا۔راتوں کو اٹھ اٹھ کر دیہات میں گیا اور لوگوں کو مسلم لیگ کی حمایت پر آمادہ کیا۔چند ایک غیر احمدی دوست بھی ہمراہ ہوتے تھے۔الیکشن کے وقت میں پرچی کے کام پر تھا پھر جب تو نسہ میں ووٹ ہوئے تو میں بھی یہاں سے گیا اور وہاں بھی تقسیم پر چی ووٹر ان کا کام کیا۔خدا کے فضل سے لیگ کو نمایاں کامیابی ہوئی“۔تقسیم ہند ۱۹۴۷ء کے دوران قادیان سے ہجرت کر کے ڈیرہ غازی خان میں قیام پذیر ہوئے اور سلسلہ کی خدمت میں رضا کارانہ طور پر مصروف ہو گئے۔کچھ عرصہ تک نہایت اخلاص اور سرگرمی سے سیکرٹری مال کی حیثیت سے مالی جہاد کرتے رہے۔ازاں بعد مئی ۱۹۵۹ء سے امیر ضلع منتخب ہوئے اور تادم واپسی اسی منصب پر فائز رہے۔آپ کا دور امارت ایک سنہری دور تھا جس میں جماعت احمدیہ ضلع نے ترقی کی اور خصوصاً شہر ڈیرہ غازی خان کا جماعتی چندہ بجٹ کے مقابل سو فیصد بڑھ گیا۔جماعتوں کا علمی ، اخلاقی اور دینی معیار بلند ہوا۔محبت والفت کی فضا قائم ہوئی۔ڈیرہ غازی خان شہر کی مسجد کی عمارت ، احمد یہ لائبریری کے انتظامات میں نئی اور شاندار تبدیلیاں عمل میں آئیں۔ضلع کے سالانہ جلسوں کی اہمیت کے پیش نظر وسیع شامیانے بنوائے گئے۔ایک عمدہ لاؤڈ سپیکر نصب کیا گیا۔نیز مسجد سے ملحق پرانی دکانیں گرا کرنٹی دکانیں بنوائی گئیں۔جن سے جماعت کی آمد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔