تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 636
تاریخ احمدیت۔جلد 22 636 سال 1964ء الفاظ سنائے جو الوصیت میں درج ہیں۔ان کی وجہ سے ہم سننے والوں کی جو حالت تھی وہ تحریر میں نہیں آ سکتی کیونکہ اس وقت کا نقشہ زبان بیان کرنے سے قاصر ہے اور قلم تحریر سے عاجز ہے۔گریہ و بکا، آہ و زاری ، دردانگیز اور دلوں کو ہلا دینے والی چیخیں ہی چینیں سنائی دیتی تھیں اور دلوں میں یہ الفاظ تھے کہ یا خدا کیا یہ وجود جو کہ ہمیں اپنی جانوں اور اولادوں، مالوں اور ہر ایک عزیز سے زیادہ عزیز ہے جس کی خاطر ہم اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں کیا جلد ہی ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جائے گا۔کیا ہماری قسمت میں یہ لکھا تھا ؎ حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد یعنی ہم نے اس خوشنما پھول کا چہرہ اچھی طرح اور خوشبو اچھی طرح نہ دیکھی اور نہ سونگھی اور یہ ہم سے اوجھل ہو جائے گا یعنی ہمارے لئے اس پھول کی بہار دیکھنے کا زمانہ ختم ہو گیا۔ہچکیاں تھیں جو مسلسل بندھی ہوئی تھیں۔غم کا دریا تھا جو امنڈتا چلا آرہا تھا اور دل غم کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔کوئی متنفس ایسا نہ تھا جس کا دل گریاں اور بریاں نہ ہو۔دل میں آرزوئیں اور تمنا ئیں تھیں کہ یا الہی ہماری عمروں میں کمی کر کے اس وجود کو عمر جاوداں عطا کر دے۔مگر خدائی نوشتوں کو کوئی انسانی طاقت نہیں مٹاسکتی غرض اس آہ و بکا کے عالم میں یہ مضمون حضور نے ختم کیا“۔۲۷؍دسمبر ۱۹۰۵ء جبکہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا تابوت بہشتی مقبرہ میں منتقل کیا گیا۔آپ اس تاریخی موقعہ پر موجود تھے۔حضرت مولوی صاحب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حادثہ ارتحال کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ایک دن ۲۶ یا ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو قادیان سے مولوی محمد علی صاحب کا تار مولوی عزیز بخش ( مولوی محمد علی صاحب کے بڑے بھائی جو ان دنوں جماعت ڈیرہ غازی خان کے سیکرٹری و پریذیڈنٹ تھے ) کے نام آیا کہ آپ ۲۶ مئی کو لاہور میں وفات پاگئے ہیں۔دل میں رنج، درد، دکھ کی وہ کیفیت تھی جو بیان سے باہر ہے۔اور جو حالت الوصیت سنتے وقت ہوئی تھی اپنی شدت میں اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔اگر میں الوصیت کے وقت خدائی الہامات کو نہ سن چکا ہوتا اور ان الہامی وعدوں کو جو آپ کی وفات کے بعد خلافت کے ذریعے پورے ہونے تھے نہ پڑھ چکا ہوتا تو نہ معلوم ان غلبہ کے وعدوں کو