تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 635
تاریخ احمدیت۔جلد 22 635 سال 1964ء لوگ بھی سن لیتے تھے۔جب کوئی سائل سوال کرتا تو آپ اس کا جواب باصواب دیتے۔جب کوئی دوست بات کرنی شروع کرے اور بات لمبی ہو جاتی تو آپ بند نہ کرتے اور اظہار ناراضگی نہ فرماتے۔کوئی نظم وغیرہ سناتا تو آپ سنتے رہتے۔میرا قیام جلسہ میں صرف پانچ چھ روز رہا پھر لاہور واپس آ گیا۔اس وقت کی مسجد مبارک میں صرف چار پانچ صفیں مشکل سے بنتی تھیں اور ہر ایک صف میں بھی پانچ سے زائد آدمی نہ آسکتے تھے لیکن شوق کے سبب لوگ اس قد را کٹھے ہو جاتے کئی سطریں پاس پاس بن جاتی تھیں اور ہر صف میں آدمی زیادہ ہو جاتے۔اس صورت میں ہم ایک دوسرے کی پیٹھ پر سجدہ کر لیا کرتے تھے۔۱۹۰۶ ء میں گرمیوں کی دوماہ کی رخصتیں ہوئیں تو آپ دوبارہ قادیان گئے۔حضرت اقدس کے ساتھ نمازیں پڑھیں۔خدا کی تازہ بتازہ وحی سنتے رہے۔حضرت اقدس علیہ السلام کی مجلس میں قریب وکر بیٹھنے اور حضور کی زبان مبارک سے کلمات طیبات سنے کا موقعہ ملتا رہا۔اسی طرح حضرت خلیفۃ امسیح الاول کے مطب میں جا کر مولوی حافظ روشن علی صاحب، سید نامحمود المصلح الموعود اور میر محمد الحق صاحب کو حدیث پڑھتے دیکھا۔حضرت مولوی صاحب کا بیان ہے۔غالبا ۱۹۰۵ء کے جلسہ میں حضور نے اپنی وصیت سنائی تھی۔اس میں میں موجود تھا۔نا معلوم یہ مسودہ وہی تھا جو خود حضور نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا یا اس کی کاپی تھی جو کا تب نے املاء کی تھی یا کتاب مطبوعہ تھی مگر واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے سنایا تھا وہ پہلے کتابی صورت میں طبع ہو کر شائع نہ ہوا تھا۔یہ وصیت حضور نے اس جگہ سنائی جو قادیان میں محاسب کے دفتر کے شمالی جانب گلی پر واقع ہے جہاں ہجرت سے پہلے مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالی رہا کرتے تھے دوست احباب مقامی اور بیرونی اسی مکان کے چھتے ہوئے حصہ میں بیٹھے تھے یکا یک اوپر سے حضور سیڑھیوں کے ذریعے اترے اور قدرے توقف کے بعد آپ نے الوصیت سنانی شروع کی۔الہامات وفات کے متعلق سنائے۔قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدِّرُ ( مقدر اجل قريب پہنچی الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ کوچ کا وقت - کوچ کا وقت۔اب تھوڑے دن رہ گئے۔اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔یہ ہو گا وہ ہو گا۔اس کے بعد تمہارا حادثہ ہوگا۔میرے بعد تمہارے لئے دوسری قدرت کا دیکھنا ضروری ہے پر وہ نہ آئے گی جب تک میں نہ جاؤں وہ قدرت ( مراد خلافت) تمہارے لئے دائگئی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔جیسے رسول اللہ کے بعد ابو بکر کے ذریعے مسلمانوں کو تباہی سے بچالیا۔ایسے ہی یہاں بھی ہو گا۔غرض اس قسم کے دلوں کو ہلا دینے والے 75