تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 637 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 637

تاریخ احمدیت۔جلد 22 637 سال 1964ء جوا بھی پورے ہونے باقی تھے ذہن میں لا کر کچھ دیر کے لئے شاید ایک انسان تذبذب میں پڑ جاتا۔مگر خدا نے محض اپنے فضل سے ہمیں ہر قسم کے ابتلا سے بچالیا۔الہام جنازہ کفن میں لپیٹ کر لائے۔ڈرو مت مومنو وغیرہ وغیرہ الہامات سے ہمارے ایمانوں کو تقویت پہنچی۔اور ان الہاموں سے خدا کی قدرت اور مسیح موعود کا خدا سے علم غیب کی خبروں پر اطلاع پانا اور اسی طرح وقوع میں آنا جب ذہن میں آتا تو بجائے اس کے کہ ہمارے ایمان میں کمی ہو آپ کی صداقت پر اور یقین پختہ ہونے کا سبب بن گئے۔کسی نے سچ کہا ہے۔ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است غرض یہ صدمہ ہمارے لئے بظاہر جانکاہ تھا۔لیکن یہ ہمارے لئے کسی ابتلا کا باعث نہ بنا“۔حضرت مولوی صاحب ۱۰ / اکتوبر ۱۹۰۶ ء کو گورنمنٹ سکول ڈیرہ غازی خان کے سٹاف میں شامل ہوئے۔اور قریباً چونتیس سال تک تدریسی خدمات بجالانے کے بعد اسی سکول سے یکم مارچ ۱۹۴۱ء کو ریٹائر ہو کر پنشن پائی۔اور پھر اسی سال بقیہ زندگی دیار حبیب میں گزارنے کے لئے ہجرت کر کے قادیان آگئے۔آپ کا معمول تھا کہ آپ مسجد مبارک میں وقت سے بہت پہلے پہنچ جاتے اور پہلی صف میں محراب کے شمالی طرف دائیں جانب بیٹھنے کی کوشش کرتے۔ان بزرگوں میں سے جو اس زمانے میں آپ سے خاص طور پر واقف ہو گئے تھے حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی اور بابا محمد حسن صاحب تھے۔ان دنوں حضرت مصلح موعود مسجد مبارک میں قرآن کریم کا درس دیتے تھے آپ کو اس کے سننے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔یکم اکتوبر ۱۹۲۵ء سے حضرت مولوی صاحب کو جماعت ڈیرہ غازی خان کے سیکرٹری مال کا عہدہ سپرد کیا گیا۔۱۹۳۶ء میں آپ نے مختصر تاریخ جماعت احمد یہ ضلع ڈیرہ غازی خان مرتب فرمائی جو اخبار الفضل قادیان مورخہ ۶ ار اگست ۱۹۳۴ء میں شائع ہوئی۔اسی زمانہ میں خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق دی کہ آپ نے قادیان سے ضلع ڈیرہ غازی خان کے مشہور گدی نشینوں اور دیگر معززین کو مفصل تبلیغی خطوط لکھے۔جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں :۔(۱) خواجہ سدید الدین صاحب گدی نشین تونسوی (۲) خواجہ نظام الدین صاحب تو نسوی گدی نشین خواجہ محمود