تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 626 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 626

تاریخ احمدیت۔جلد 22 626 سال 1964ء میں نے اس میں اشتہار دیکھا کہ رسالہ تخمیذ الاذہان کے لئے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو حساب کتاب رکھ سکتا ہو اور کسی قدر مضمون وغیرہ لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ میں درخواست کروں۔شاید مجھ کو قادیان میں رہنے کا موقع مل جائے۔میں نے لکھا کہ میں نومسلم ہوں اسلام کے متعلق زیادہ واقفیت نہیں رکھتا۔اس لئے مضمون و غیرہ تو نہیں لکھ سکتا البتہ حساب کتاب کا کام کرسکوں گا۔میں اس وقت ریاست میں ملازم ہوں لیکن میری خواہش ہے کہ میں اسلام کی تعلیم سیکھوں۔اگر آپ مجھ کو مفید مطلب سمجھیں تو میں قادیان آنے کو تیار ہوں۔درخواست دینے کے بعد مجھے ایک رویا بھی ہو چکا تھا کہ میں قادیان میں ہوں اور ایک کمرہ میں بیٹھا ہوں وہاں اور بھی لوگ ہیں حضرت صاحبزادہ صاحب نے مجھے بلایا اور ایک کتب خانہ کی الماریوں کی چابیوں کا گچھا میرے سپرد فرمایا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب میں بلانے پر قادیان پہنچا تو تشحید الا ذہان کی لائبریری میں دو ہزار کے قریب کتب تھیں۔اس کی چابیوں کا گچھا میرے سپرد کیا گیا۔حالانکہ اس سے قبل میں نے تشحیذ الا ذہان کی لائبریری بھی نہ دیکھی تھی۔حضرت صاحب نے لکھا بتاؤ کس قدر گزارہ پر تم یہاں آ سکتے ہو۔میں نے کہا قادیان کے حالات سے مجھے واقفیت نہیں کہ کس قدر رقم میں وہاں میرا گزارہ ہو جائے گا۔بہر حال میں دس روپے ماہوار تک تنخواہ پر آجاؤں گا۔میری والدہ چونکہ ہندو ہیں اور حین حیات ہیں۔پانچ روپے ماہوار میں ان کو بھیج دیا کروں گا اور پانچ روپے میں خود گزارہ کرلوں گا۔اور لکھا کہ اگر اس سے کم میں وہاں میرا گزارہ ممکن ہوا تو میں اس سے بھی کم لینے کے لئے تیار ہوں۔حضرت صاحب نے تحریر فرمایا آجاؤ۔چنانچہ میں نے اپنی ملازمت سے چھ ماہ کی رخصت بلا تنخواہ لی اور ۲۶ دسمبر ۱۹۱۰ء کو قادیان روانہ ہو گیا۔بعد میں قادیان سے ہی اپنا استعفی لکھ کر بھیج دیا۔اس وقت سے تقسیم ملک تک اللہ تعالیٰ نے مجھ کو قادیان میں رہنے کی توفیق دی۔حضرت منشی صاحب کو ایک لمبے عرصہ تک صدر انجمن احمدیہ کی مختلف نظارتوں میں اور پھر دفتر انصار اللہ مرکزیہ میں خدمات بجالانے کا موقعہ ملا۔اس تمام عرصہ میں آپ نے نہایت اخلاص و محبت سے کام کیا اور نہایت سادگی اور بے نفسی کے ساتھ متوکلانہ زندگی گزاری۔60- اولاد ا۔مکرم مولوی عبدالکریم صاحب شرما مربی سلسلہ مقیم لندن، انگلستان۔ولادت ۱۹۱۸ء مکرم میجر ریٹائر ڈ عبدالحمید صاحب شرما ( مرحوم )۔ولادت ۱۹۲۱ء وفات اپریل ۲۰۰۳ء