تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 625 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 625

تاریخ احمدیت۔جلد 22 625 سال 1964ء نے حضور سے مصافحہ کیا اور کپڑوں کو چھوا۔کپڑوں سے مجھے خوشبو آتی تھی غالباً حضور نے عطر لگایا ہوا تھا۔حضور کی زیارت سے میرے قلب پر خاص اثر پڑا۔آپ کو دیکھ میں بے تاب ہو گیا اور اسلام کی طرف میری کشش زیادہ ہو گئی۔جب میں گھر سے چلا تھا تو میری نیت اسلام قبول کرنے کی نہ تھی۔صرف حضور کی زیارت مقصود تھی۔اس شوق میں میں نے یہ سفر اختیار کیا تھا۔قادیان میں آ کر منشی صاحب نے مجھے اسلام قبول کرنے کی تحریک نہیں کی بلکہ ان کا مشورہ یہی تھا کہ میں ابھی بیعت نہ کروں۔غالبا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ابھی نو عمر تھا۔اور بعض احباب کا خیال تھا کہ اگر یہ بات نکل گئی کہ حضور نے ایک نو عمر لڑکے کو مسلمان بنالیا ہے تو ہندو کوئی فتنہ کھڑا کر دیں گے۔اور حضور کو تکلیف ہوگی۔لیکن حضور کو دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا۔مغرب کی نماز کے بعد جب بیعت ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو توفیق دے دی اور میں خود بخود بیعت کے لئے آگے بڑھ آیا۔اس وقت قریباً آٹھ آدمیوں نے بیعت کی۔میری اس جرات کو دیکھ کرمنشی صاحب بہت خوش ہوئے اور مجھ کو سینے سے لگالیا۔مگر اس وقت انہوں نے فتنہ کے خیال سے مجھ کو یہ ظاہر کرنے نہ دیا کہ میں ہندوؤں سے مسلمان ہوا ہوں۔اس وقت بیعت کے بعد نام لکھے جاتے تھے میں نے اپنا نام رحیم بخش لکھوا دیا۔بعد میں حضرت خلیفہ اسیح الاول کے زمانہ میں رحیم بخش کی بجائے عبدالرحیم نام رکھا گیا۔سات روز ہم قادیان میں رہے اکثر نمازیں مسجد مبارک میں پڑھا کرتے تھے۔مغرب کی نماز کے بعد حضور شاه نشین پر رونق افروز ہوتے اور کسی مقدمہ کے متعلق گفتگو ہوتی۔غالباً کرم دین والا مقدمہ تھا۔سات روز ٹھہر کر ہم وطن واپس آگئے۔آتی دفعہ میں نے حضرت صاحب کی چند کتب خریدیں۔سرمہ چشم آریہ، جنگ مقدس، رپورٹ جلسہ مہوتسو ( مذاہب عالم ) وغیرہ جن کا مطالعہ بعد میں میرے لئے مفید ہوا۔حضرت منشی صاحب کی ہجرت قادیان کا واقعہ بھی بہت ایمان افروز ہے جو آپ ہی کے قلم سے درج کیا جاتا ہے:۔ایک دن مجھ کو خیال آیا کہ تم مسلمان تو ہو گئے ہو لیکن اسلام کی تعلیم تو حاصل نہیں کی۔میرے دل میں تحریک ہوئی کہ میں قرآن کریم کا ترجمہ سیکھوں۔مگر قصبہ بنوڑ میں ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔میں نے دعا شروع کر دی ہوئی تھی۔آخر خدا تعالیٰ نے میرے لئے یہ سامان بھی پیدا کر دیا کہ رسالہ تھی الاذہان میرے نام آیا کرتا تھا۔حضرت میاں محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی اس کے ایڈیٹر تھے۔ایک دفعہ