تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 623 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 623

تاریخ احمدیت۔جلد 22 623 سال 1964ء گئی۔یہ معلوم کر کے کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پالکی اپنے کندھے پر اٹھانے کا خصوصی شرف حاصل ہے۔جناب مگسے کمارا آپ کے قدموں میں بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ آپ کے گھٹنوں پر رکھ کر درخواست کی کہ آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر انہیں برکت دیں۔چنانچہ آپ نے بڑی شفقت کے ساتھ ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور انہیں دعا دی۔آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔حضرت منشی شیخ عبدالرحیم شر ما صاحب ( سابق کشن لال) 58 ولادت : ۸۸-۱۸۸۷ء۔بیعت : ۱۹۰۴ء۔وفات: ۲۵ /اکتوبر ۱۹۶۴ء۔آپ ان معروف اصحاب میں سے آخری فرد تھے جنہیں حضور علیہ السلام کے زمانہ میں اپنا آبائی مذہب ترک کر کے احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔آپ کے خود نوشت حالات زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو احمدیت کی نعمت ایک احمدی بزرگ حضرت منشی عبدالوہاب صاحب محر ر چونگی خانہ قصبہ بنور (ریاست پٹیالہ) کی تبلیغ سے نصیب ہوئی۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔ملازمت کے دوران مجھ کو اکثر ان کے پاس بیٹھنے کا اتفاق ہوتا تھا۔تبلیغ کا ان کو بہت شوق تھا۔مجھ کو بھی وہ تبلیغ کیا کرتے تھے۔ان کا طریق تبلیغ یہ تھا کہ وہ ہندومذہب کا ایک نقص ظاہر کر کے اس کے مقابلے میں اسلام کی خوبیاں بیان کرتے تھے۔مثلاً جب وہ بت پرستی کی مذمت کرتے تھے تو ساتھ ہی تو حید کی خوبیاں بیان کرتے تھے اور دلائل سے موازنہ کرتے تھے۔میں اپنی سمجھ کے مطابق بحث مباحثہ کرتا تھا۔لیکن ابتدا سے میری طبیعت میں یہ بات تھی کہ جو بات مجھ کو درست معلوم ہوتی تھی اس پر میں خاموش ہو جا تا تھا۔جب ہماری اس گفتگو کا چر چاچونگی خانہ میں ہوا اور منشی صاحب کو اس بات کا علم ہوا تو ان کو مزید شوق ہوا کہ مجھ سے وہ مذہبی امور پر باتیں کریں۔چنانچہ ان سے اکثر مذہبی گفتگو ہوتی۔وہ بہت پیار اور محبت سے مجھ سے گفتگو کرتے۔ان کی صحبت سے رفتہ رفتہ مجھ پر ہندومذ ہب کے نقائص اور اسلام کی خوبیاں ظاہر ہوتی گئیں۔اور خدا تعالیٰ کی توحید اور عظمت کا اثر میرے دل پر ہونے لگا۔انہوں نے مجھے بتایا کہ خدا تعالیٰ ایک زندہ ہستی ہے جو اس کو پکارتا ہے وہ اس کی سنتا ہے اور جواب بھی دیتا ہے۔پھر منشی صاحب نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض کتابیں دینا شروع کر دیں۔اخبار بدر اور الحکم ان کے پاس آیا کرتے تھے۔ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تازہ بتازہ الہام بھی درج