تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 624
تاریخ احمدیت۔جلد 22 624 سال 1964ء ہوتے تھے وہ اکثر میں پڑھا کرتا تھا۔انہی دنوں مجھے بعض مقاصد در پیش تھے۔میں نے سوچا کہ مسلمان کہتے ہیں کہ خدا سنتا ہے اور دعائیں قبول کرتا ہے چلو آزما کر دیکھیں کہ کیا واقعی اسلام کے طریق پر دعا کرنے سے خدا سنتا ہے۔میں نے منشی صاحب سے کہا کہ مجھے نماز سکھائیں۔میں آپ کے طریق پر اپنے بعض مقاصد کے لئے دعا کرنا چاہتا ہوں۔میں نے مقاصد تو ان کو نہیں بتائے تھے البتہ نماز ان سے سیکھنا شروع کر دی۔گومیری زبان پر عربی عبارت نہ چڑھتی تھی تاہم اچھی بری میں نے سیکھ ہی لی۔اور ترجمہ بھی سیکھا اور چھپ کر اپنے طور پر نماز پڑھنا شروع کر دی۔میرے گھر والوں، دفتر کے ملازموں حتی کہ منشی عبد الوہاب صاحب کو بھی اس بات کا علم نہ تھا کہ میں نے نماز پڑھنی شروع کر دی ہے صرف فقیرمحمد سپاہی کو جو میرے ساتھ چونگی پر کام کرتا تھا میں نے اپنا ہمراز بنایا ہوا تھا۔نماز کے لئے میں نے دو جگہیں مخصوص کر رکھی تھیں۔دن کی نماز میں اپنی چونگی کے ایک کمرہ میں جو کہ ذرا علیحد ہ تھا اور لوگوں کی آمد و رفت وہاں نہ ہوتی تھی۔کواڑ بند کر کے پڑھتا تھا۔اور فقیر محمد کوتا کید کر رکھی تھی کہ اگر کوئی ہندو ادھر آئے تو مجھے اطلاع کر دینا۔فقیر محمد خود نماز نہ پڑھتا تھا مگر یہ دیکھ کر کہ ایک ہند و نماز پڑھتا ہے اسے شرم آئی اور وہ بھی نماز پڑھنے لگ گیا اور بعد میں احمدی بھی ہو گیا تھا۔رات کو نمازوں کے لئے میں نے گھر میں ایک جگہ مخصوص کر رکھی تھی۔ہمارا مکان پرانی وضع کا تھا۔سب کمروں کے پیچھے ایک اندھیر کوٹھڑی ہوتی تھی اس کے ایک کو نہ میں کواڑ بند کر کے نماز پڑھا کرتا تھا“۔حضرت منشی صاحب اپنے پہلے سفر قادیان اور واقعہ بیعت پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید بیان 59 فرماتے ہیں:۔ددمنشی عبدالوہاب صاحب قادیان آنے لگے تو انہوں نے مجھ سے بھی ذکر کیا۔میرے دل میں پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شوق پیدا ہو چکا تھا میں بھی ان کے ساتھ قادیان آنے کے لئے تیار ہو گیا۔چنانچہ میں نے چند روز کی رخصت لی اور ہم حضور کی زیارت کے لئے چل پڑے۔یہ غالبا ماہ جون یا جولائی ۱۹۰۴ء کا ذکر ہے۔جمعہ کے روز قریباً گیارہ بجے ہم قادیان پہنچے ان دنوں دو جگہ جمعہ ہوتا تھا مسجد مبارک میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے جمعہ پڑھایا اور مسجد اقصیٰ میں حضرت مولوی نور الدین صاحب نے۔ہم نے جمعہ مسجد مبارک میں پڑھا۔میں کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا۔مجھے کو بتایا گیا تھا کہ یہاں سے حضرت اقدس تشریف لائیں گے۔مسجد چھوٹی سی تھی۔ایک صف میں بمشکل چھ یا سات آدمی سما سکتے تھے۔جب کھڑکی کے رستہ سے حضرت اقدس تشریف لائے۔میں