تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 622
تاریخ احمدیت۔جلد 22 622 سال 1964ء حضرت شیخ فضل قادر صاحب ولد حضرت شیخ نوراحمد صاحب ولادت : ۱۸۹۴ء۔بیعت: پیدائشی احمدی۔وفات : ۷ استمبر ۱۹۶۴ء۔حضرت شیخ فضل قادر صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیمی مخلص صحابی حضرت شیخ نور احمد صاحب ( مختار عام حضرت مصلح موعود ) کے فرزند اکبر تھے۔پیدائشی احمدی اور قادیان سے ملحق موضع کھارا کے قدیمی باشندہ ہونے کے باعث اوائل عمر میں ہی آپ کو بھی حضور علیہ السلام کی زیارت کا اکثر موقعہ ملتا رہا۔آپ کا نام بھی حضور علیہ السلام کا تجویز کردہ تھا۔آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں بطور کارکن سالہا سال خدمات بجالانے کے بعد وہاں سے ریٹائر ہوئے۔جس کے بعد آپ کو کئی سال تک سیدنا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر رہ کر خدمات بجالانے کا موقعہ ملا۔اس طرح آپ کو اپنے والد بزرگوار کی طرح حضور کے خدام خاص میں شمولیت کا شرف حاصل رہا۔اولاد (۱) شیخ نورالحق صاحب کا رکن۔ایم۔این سنڈیکٹ ربوہ (۲) شیخ شمس الحق صاحب۔56 (۳) صادقہ بیگم صاحبہ (اہلیہ ملک بشیر الحق صاحب لاہور صدر ) (۴) حامدہ بیگم صاحبہ (اہلیہ کلیم الدین صاحب امینی۔ہڈرزفیلڈ یارک شائر انگلینڈ ) حضرت بابا نواب دین صاحب عرف میاں کا لو ولادت : ۱۸۶۲ء۔بیعت : ۱۹۰۵ء۔وفات : ۶ اکتوبر ۱۹۶۴ء 7 آپ قادیان سے متصل گاؤں منگل کے رہنے والے تھے۔آپ کو ابتدائی زمانہ سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر خدمات بجالانے کا موقعہ ملتا رہا۔آپ کو حضرت اماں جان کی ڈولی اٹھانے کی غیر معمولی سعادت بھی نصیب ہوئی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک موقع پر کوئی اور سواری دستیاب نہ ہونے کے باعث اس زمانہ میں دیہات کے مروجہ طریق کے مطابق پالکی میں تشریف فرما ہو کر سفر کرنا پڑا تو محترم بابا نواب دین صاحب کو بعض دیگر احباب کے ساتھ حضور علیہ السلام کی پالکی کو اپنے کندھے پر اٹھانے کا خصوصی شرف حاصل ہوا۔۱۹۶۲ء میں سیرالیون کے ایک ممتاز لیڈر جناب ابوبکر ملبے کمارا جو نہایت مخلص احمدی ہیں بنکاک سے اپنے وطن واپس جاتے ہوئے ربوہ تشریف لائے تو اس وقت ان کی ملاقات بابا صاحب مرحوم سے کرائی