تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 614 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 614

تاریخ احمدیت۔جلد 22 614 سال 1964ء 766 والے مجھ پر پہلے ایمان لائیں گے کیونکہ وہ وہابی ہیں اور مجھ سے بہت نزدیک ہیں۔آپ کا طریق یہ تھا کہ آپ کو جو نہی وقت ملتا یا مخالفین کی طرف سے زیادہ تنگ کیا جاتا ، آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔آپ فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس بہشت کا نمونہ تھی۔ہر قسم کا غم ، تکالیف یا گھبراہٹ حضور کی مجلس میں جا کر کافور ہو جاتی۔اور دل یوں اطمینان سے بھر جاتا جیسے انسان جنت میں پہنچ گیا ہے۔آپ کو حضرت مسیح موعود" کا اردو منظوم کلام قریباً سارے کا سارا یاد تھا۔آپ نے عرصہ تک لنگر خانہ حضرت مسیح موعود کی خدمت عاشقانہ رنگ میں کی۔نہ رات دیکھی نہ دن ، نہ سردی نہ گرمی اور نہ بارش نہ دھوپ۔جس طرح بن پڑا کمال اخلاص اور رضا کارانہ جذبہ کے ساتھ خدمات بجالاتے رہے اور دیانت، امانت ، فرض شناسی اور وفاشعاری کا ایک عمدہ نمونہ دکھایا۔حضرت میر محمد الحق صاحب ناظر ضیافت آپ کے کام پر بہت ہی خوش تھے۔آپ کے وجود میں اللہ تعالیٰ نے صبر وتحمل، استقامت کی صفات ودیعت کی تھیں۔آپ کو و استقلال تھے اور بہت ہنس مکھ۔حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب جٹ امیر قادیان کے برادر اکبر بابو محمد عبد اللہ صاحب ایک روز حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت میاں صاحب نے فرمایا میاں غلام قادر صاحب کی پگڑی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرز پر ہوتی ہے۔آپ کو قرآن کریم حفظ کرنے کا بڑا شوق تھا۔انداز اپندرہ پاروں سے بھی کچھ زیادہ حفظ تھا۔آخری عمر تک قرآن کریم حفظ کرتے رہے۔رات کو سوتے وقت اپنی چارپائی کے قریب قرآن کریم اور لیمپ رکھا کرتے تھے۔جب کوئی آیت یا لفظ دیکھنا ہوتا تو لیمپ کی روشنی میں دیکھ لیتے۔جو نہی نماز کا وقت شروع ہوتا سب کچھ چھوڑ کر نماز کی تیاری میں لگ جاتے۔نماز با جماعت کا بہت اہتمام فرماتے۔نماز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ شرائط کا بہت ہی خیال رکھتے۔تہجد بھی بلاناغہ پڑھتے تھے۔ایک سال سے اکثر کہتے تھے کہ میری وفات اب قریب ہے۔خصوصا وفات سے چند روز قبل تو ہر ایک سے یہی کہتے تھے کہ میں اب چند دنوں کا مہمان ہوں۔۲۳ جون ۱۹۶۴ء کو مولوی غلام احمد صاحب فرخ مربی حیدرآباد کو خط لکھا۔آپ کی اور میری خط و کتابت چند روز ہے۔میں کمزور اور بوڑھا ہوں اور چراغ سحری۔وفات سے تین دن پہلے وصیت کے کاغذات بہشتی مقبرہ میں لے گئے اور اپنا حساب صاف کرا کر جب گھر پہنچے۔فرمانے لگے۔میں تمہارے پاس تین دن کا مہمان ہوں۔چنانچہ تین دن کے بعد آپ کی روح اپنے مولی حقیقی کے پاس پہنچ گئی۔اولاد: (۱) مولانا غلام حسین صاحب ایاز مبلغ سنگا پور۔(۲) مولانا غلام احمد صاحب فرخ 38