تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 615
تاریخ احمدیت۔جلد 22 615 سال 1964ء مربی سلسله و انچارج نجی مشن۔(۳) ملک فضل حسین صاحب۔(۴) ملک سلطان احمد صاحب۔(۵) ملک محمد حسن خاں صاحب۔(۲) محترمہ حبیب بیگم صاحبہ اہلیہ ملک فضل کریم صاحب۔(۷) محترمہ مبار که بیگم صاحبہ اہلیہ ملک طفیل احمد صاحب۔(۸) محتر مہ امۃ الرشید صاحبہ اہلیہ ملک عنایت اللہ صاحب۔حضرت گل حسن صاحب ساکن دانہ مانسہرہ ولادت: قریباً ۱۸۶۴ء۔بیعت : ۱۹۰۴ ء - وفات :۱۳ جولائی ۱۹۶۴ء بعمر ۱۰۰ سال۔آپ حضرت مولوی محمد جی صاحب (مؤلف تسہیل العربیہ واستاذ مدرسہ احمدیہ ) کے بڑے بھائی تھے۔احمدیت کے عاشق صادق تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے بعد زندگی کے آخری سال تک جلسہ سالانہ پر حاضر ہوتے رہے۔نڈر، فیاض ، مہمان نواز اور ہر ایک کے مونس و غمخوار تھے۔سخت محنتی اور قول کے بہت پکے تھے۔گاؤں کا جو بھی فردفوت ہوتا اپنا کام چھوڑ کر اس کی قبر تیار کرواتے اور اہل میت کی غم خواری کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتے تھے۔آپ نے اپنے آبائی گاؤں داتا کے شمالی جانب ایک نیا محلہ آباد کیا جس سے بے گھر لوگوں کو آرام ملا۔اور اسی میں مڈل سکول قائم کیا گیا۔لوگوں نے اس محلہ کا نام موڑھا گل حسن رکھا۔گاؤں کے غیر احمدی معززین نے آپ کے انتقال پر محسوس کیا کہ وہ ایک مونس و غمخوار سے محروم ہو گئے۔اولاد (۱) مولوی احمد حسن صاحب سابق رجسٹرار پشاور یونیورسٹی۔(۲) ڈاکٹرمحمد سعید احمد صاحب مرحوم سابق انچارج ہسپتال قصبہ تنگی۔(۳) سید حسن مرحوم۔(۴) زرینہ بیگم صاحبہ۔39 حضرت رحیمہ بیگم صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر کرم الہی صاحب آف امرتسر ولادت : ۱۸۸۹ء۔پیدائشی احمدی۔وفات : ۱۵ جولائی ۱۹۶۴ء۔آپ لجنہ اماءاللہ لا ہور کی قدیم اور سرگرم کارکنات میں سے تھیں۔آپ نے لاہور کی احمدی خواتین کو موثر بنانے میں قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔بچوں کی تربیت کا خاص ملکہ آپ کو حاصل تھا۔چنانچہ 40 تربیت اولاد کا فریضہ آپ نے بہت ہی خوش اسلوبی سے ادا کیا۔آپ کے والد صاحب نے ۱۸۹۷ء کے شروع میں بیعت کی تھی۔مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند