تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 611 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 611

تاریخ احمدیت۔جلد 22 611 سال 1964ء خلیفہ اسیح الثانی نے تین چار گھنٹے تک شرف ملاقات بخشا۔کھانا بھی وہیں کھایا گیا۔جس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور (حضرت) مرزا ناصر احمد صاحب بھی شامل تھے۔شیخ دین محمد صاحب پر اس ملاقات کا خاص اثر ہوا اور انہوں نے بعد میں کئی مرتبہ حضرت مصلح موعود کے اخلاق اور وسعت معلومات کی تعریف کی۔اولاد: حضرت شیخ خواجہ محمد شریف صاحب ( پیدائش ۱۸۹۴ء) - شیخ محد لطیف صاحب۔شیخ محمد حنیف احمد صاحب 20 مکرم شیخ طاہر احمد نصیر صاحب سیکرٹری تالیف واشاعت کراچی آپ کے پوتے ہیں۔حضرت مہراں بی بی صاحبہ زوجہ حضرت میاں عبدالرحیم صاحب پوہلہ ولادت : ۱۸۸۴ء۔بیعت : ۱۹۰۳ ء۔وفات :۲ جون ۱۹۶۴ءB0 آپ اپنے شوہر محترم میاں عبدالرحیم صاحب مرحوم المعروف میاں پوہلہ کے ہمراہ بیعت کر کے داخل سلسلہ احمد یہ ہوئی تھیں۔۱۹۰۳ء سے ۱۹۲۸ ء تک جلسہ سالانہ پر آنے والی مستورات کے لئے کھانا وغیرہ کے جماعتی انتظام میں پورے اخلاص اور خندہ پیشانی سے حصہ لیتی رہیں۔بہت نیک اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھنے والی خاتون تھیں۔طبیعت بہت صلح جو تھی برادری اور مستورات کے تنازعات کو نہایت خوش اسلوبی سے سلجھا دیا کرتی تھیں۔حضرت حاکم بی بی صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر مرز اعبدالکریم صاحب ولادت : ۱۸۸۶ء۔بیعت : ۱۹۰۴ء۔وفات : ۷ جون ۱۹۶۴ء 2 حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب مصنف چٹھی مسیح کی بڑی بہو تھیں۔نہایت دیندار، متقی ،صابر و 33 شاکر خاتون تھیں۔نو بجے شب اپنی پوتی کو نماز کا سبق دے رہی تھیں کہ آخری بلاوا آ گیا۔آپ کے صاحبزادے مکرم ڈاکٹر مرزا عبدالقیوم صاحب، مکرم ڈاکٹر مرزا عبد الرؤف صاحب اور داماد مکرم احتجاج علی زبیری صاحب آپ کی میت لیکر اگلے روز کیمبل پور سے ربوہ آئے۔جہاں حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے آپ کی نمازہ جنازہ پڑھائی۔تدفین مقبرہ بہشتی میں صحابہ کے قطعہ میں ہوئی۔قبر پر دعا ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے کرائی۔آپ نے چار بیٹے ، دو بیٹیاں اور کثیر تعداد میں پوتے ، پوتیاں ، نواسے نواسیاں وغیرہ یاد گار چھوڑی ہیں۔