تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 612 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 612

تاریخ احمدیت۔جلد 22 612 حضرت چوہدری غلام محمد صاحب گوندل چک ۹۹ شمالی سرگودھا سال 1964ء ولادت: تقریباً ۱۸۷۰ء۔بیعت : ۱۹۰۶ ء۔وفات: ۸ جون ۱۹۶۴ء بمقام قادیان۔آپ نے اپنی ساری زندگی نہایت پارسائی اور نیکی میں گزاری۔اپنے گاؤں بلکہ علاقہ بھر میں سب اپنے اور بیگانے آپ کی بزرگی اور راست گوئی اور ایمانداری کے معترف تھے۔آپ کی نیکی کا خاص اثر تھا۔نمازوں کو خاص طور پر سنوار کر ادا کرنے والے دعا گو بزرگ تھے۔مولانا شیخ عبدالقادر صاحب مربی سلسلہ تقسیم ملک سے قبل بحیثیت مبلغ را کپور ( حال فیصل آباد) میں مقیم تھے اور ضلع لائکپور کے علاوہ سرگودھا، شیخو پورہ اور جھنگ کے اضلاع بھی آپ کے حلقہ تبلیغ میں شامل تھے۔اس زمانے میں حضرت چوہدری صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی غلام رسول صاحب بسرا آپ کے ساتھ پیدل تبلیغ کے لئے دور دراز علاقوں میں جایا کرتے تھے۔بعض اوقات ان سفروں میں دو دو تین تین دن بھی لگ جاتے۔مگر یہ بزرگ گھبراتے نہیں تھے بلکہ اس خدمت میں نہایت درجہ خوشی محسوس کیا کرتے تھے۔مولانا شیخ عبدالقادر صاحب کا بیان ہے کہ چوہدری صاحب کے چھوٹے بھائی چوہدری غلام رسول صاحب میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں آپ سے ایک مشورہ کرنے آیا ہوں۔اس علاقہ میں جو زمینیں ہم کو گورنمنٹ کی طرف سے ملی تھیں۔وہ قانون کے مطابق باپ کی وفات کے بعد بڑے بھائی کے نام منتقل ہوئی ہیں۔ہماری زمین بھی میرے بڑے بھائی غلام محمد صاحب کے نام منتقل ہوئی ہے حالانکہ حق میرا بھی برابر کا ہے آپ مشورہ دیں۔میں نے کہا حضور کی خدمت میں قادیان لکھ دیں۔حضرت مصلح موعود کی طرف سے ضلع سرگودھا کی جماعت کے امیر کوچک ۹۹ شمالی میں جا کر تحقیق کرنے اور پھر اپنی رپورٹ بھجوانے کا ارشاد ہوا۔امیر ضلع نے رپورٹ کی کہ جب سارے چک والوں نے اپنے چھوٹے بھائیوں کو جواب دے دیا ہے تو چوہدری غلام محمد صاحب اپنے چھوٹے بھائی کو جواب دینے میں حق پر ہیں۔گورنمنٹ کے نزدیک چھوٹا بھائی جائداد کا وارث نہیں ہوسکتا۔حضور نے اس رپورٹ پر تحریر فرمایا ” آپ کا فیصلہ شریعت کے خلاف ہے زمین کا حق نہ صرف بھائی کو بلکہ بہنوں کو بھی پہنچتا ہے۔مرکز سے اس ارشاد مبارک کے موصول ہونے پر حضرت چوہدری غلام محمد صاحب خوشی سے اچھلنے لگے کہ اب حضرت صاحب کا فیصلہ آگیا ہے۔میں نہ صرف بھائی کو بلکہ بہنوں کو بھی زمین سے حصہ دوں گا۔چنانچہ آپ سب سے پہلے اپنی بہنوں کے پاس گئے مگر انہوں نے کہا ہمیں ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت کچھ دیا ہوا ہے۔اس کے بعد اپنے چھوٹے بھائی سے کہا کہ اپنا