تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 605 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 605

تاریخ احمدیت۔جلد 22 605 سال 1964ء اللہ تعالیٰ حضرت مولوی بقا پوری صاحب کو ان کے نیک کاموں کی نیک جز اعطا فرمائے“۔حضرت مولانا صاحب نے سندھ سے واپسی کے بعد عرصہ تک قادیان کے واعظ مقامی کے فرائض نہایت کامیابی سے انجام دئے۔ازاں بعد دو سال متفرق کلاسوں میں معلم اول کی خدمات بجالاتے رہے۔اس دوران آپ نے نظارت دعوت و تبلیغ کے زیر ہدایت ملک کے مختلف جلسوں میں بھی شرکت فرمائی اور اپنے ایثار و اخلاص سے سلسلہ کے نو جوان مبلغین کے لئے ایک دائی نمونہ قائم کر دکھایا۔چنانچہ مولوی عبدالرحمن صاحب انور پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفتہ اسی تحریر فرماتے ہیں:۔جب یہ خاکسار ۱۹۳۰ء میں مبلغین کلاس سے فارغ ہوا تو نظارت دعوۃ و تبلیغ نے ابتدائی تجربہ اور ٹرینگ کے لئے جن بزرگوں کو تجویز فرمایا ان میں سے خصوصیت سے قابل ذکر مکرم محترم مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کا وجود ہے۔مجھے ان کے فیض صحبت سے بہت ہی مفید معلومات اور تجارب حاصل ہوئے۔انہوں نے ہمدردانہ سلوک سے مجھے بہت ہی متاثر کیا۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔مجھے محترم مولانا کے ہمراہ ۱۹۳۰ء میں بٹھنڈا ، کوٹ کپورا، موگا، زیرہ، فیروز پور، قصور، جوڑا اور کھر پڑ کی جماعتوں کے دورہ کا موقعہ ملا۔اس دورہ میں کئی مقامات پر مولوی صاحب کو اپنے سامان سمیت پیدل پانچ چھ میل تک کا سفر بھی کرنا پڑا۔احباب جماعت مولوی صاحب کی بے تکلف اور جفا کش طبیعت سے بہت متاثر ہوتے تھے اور ان کی پند و نصائح کو پوری توجہ سے سنتے تھے۔چونکہ مولوی صاحب کی آواز بہت بلند تھی اس لئے رات کے وقت گاؤں میں چھت پر وعظ کو تمام گاؤں کے لوگ اطمینان سے اپنے گھروں میں بیٹھے بھی سن سکتے تھے۔اور غیر احمدی علماء کا یہ پروپیگنڈا کہ احمدی علماء کے مواعظ کو نہ سنیں دھرا کا دھرا رہ جاتا تھا۔پھر دوبارہ مولوی صاحب کے ہمراہ سامانہ، پٹیالہ اور سنور کے دورہ کا موقعہ ملا۔اسی طرح تیسری بار ۱/۸ کتوبر ۱۹۳۲ء کو بھی مولوی صاحب کے ہمراہ واربرٹن، جڑانوالہ، سید والہ کا دورہ کیا۔اس دورہ میں گیانی واحد حسین صاحب بھی ہمراہ تھے۔مکرم مولوی صاحب کو مستورات میں تبلیغ کرنے کا خاص ملکہ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔کیونکہ عموماً دیہات میں اس طبقہ کے حقوق محفوظ نہیں ہوتے۔ان کی اس حکمت عملی کی وجہ سے کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ اشد مخالفین لوگ بھی اپنی مستورات کے مولوی صاحب کے وعظ سے متاثر ہونے کی وجہ سے شرارتوں سے باز رہتے تھے۔