تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 604
تاریخ احمدیت۔جلد 22 604 سال 1964ء کے میرے والد صاحب مرحوم حضرت میاں امام الدین صاحب کے ساتھ نہایت مشفقانہ تعلقات تھے۔اس لئے جب میں قادیان تعلیم کے لئے آیا اور اس وقت میری عمر گیارہ بارہ سال کی تھی۔تو اس دوران میں کئی دفعہ جناب مولوی صاحب نے از راہ شفقت میری حوصلہ افزائی فرمائی۔مکرم مولانا بقا پوری صاحب نے پنجاب کے گوشہ گوشہ میں احمدیت کی تبلیغ کی ہے اور ایک لمبے عرصہ تک آپ صوبہ سندھ میں انچارج مبلغ رہے ہیں۔اسی لئے آپ نے سندھی زبان بھی سیکھی ہے۔آپ بفضلہ تعالیٰ سندھی میں عمدہ تقریر فرماتے ہیں۔میرے تبلیغی زمانہ کے اوائل یعنی ۲۸-۱۹۲۷ء کی بات ہے کہ میں اور اخویم مکرم مولوی قمر الدین صاحب فاضل سندھ کے دورہ پر بھیجے گئے۔چونکہ حضرت مولوی بقا پوری صاحب انچارج تبلیغ صوبه سندھ تھے اس لئے یہ دورہ ہم نے ان کی معیت میں کیا۔سکھر سے لے کر زیریں اور بالائی سندھ میں جس جگہ ہمیں جانے کا اتفاق ہوا میں نے ہر جگہ محسوس کیا کہ احمدیوں میں خصوصاً اور غیر احمدیوں میں عموماً مولا نا بقا پوری صاحب کے لئے نہایت محبت و احترام کے جذبات موجود تھے اور ہر جگہ لوگ ان کی نیکی اور تقویٰ کے قائل تھے۔تبلیغ کے لئے جس ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اور جس طرح کے ہمدردانہ تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔میں نے مشاہدہ کیا تھا کہ وہ ماحول اور وہ تعلقات جناب مولوی صاحب نے پیدا کر رکھے تھے۔شہروں اور دیہات میں ہر جگہ یہ امر نظر آ رہا تھا کہ مولوی بقا پوری صاحب نے اپنے فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا فرمایا ہے۔میں اس جگہ اس امر کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس دورہ میں مولوی صاحب موصوف نے ہمارے ساتھ بھی نہایت مشفقانہ سلوک کیا تھا۔جزاہ اللہ خیراً۔سکھر میں غیر احمدیوں کی مجلس نے ہماری تقاریر کا انتظام کیا تھا اور تین دن تک یہ جلسے نہایت دھوم دھام سے ہوتے رہے اور ہزاروں لوگ راتوں کو بیٹھ کر تقریریں سنتے رہے اور یہ سب کچھ مولانا بقا پوری صاحب کے حسن تدبر کا نتیجہ تھا۔سندھ کے دیہات میں جب ہم جاتے تھے تو اس موقعہ پر ہر جگہ جلسہ کا انتظام کیا جاتا۔ان جلسوں میں ہم اگر چہ اردو میں تقریر کرتے تھے جسے بالعموم سمجھا جاتا تھا مگر حضرت مولوی صاحب سندھی میں تقریریں کرتے تھے۔اور تمام حاضرین ان کی عام فہم تقریروں سے بہت متاثر ہوتے تھے۔بہر حال سفر سندھ کے نیک اثرات کا نقشہ آج بھی میرے سامنے ہے اور دل سے دعا نکلتی ہے کہ